قاری عبد الباسط عبد الصمد اور علامہ اقبال
رحمھا اللہ داڑھی کیوں نہیں رکھتے تھے۔ پیر ذولفقار نقشبندی کا بیان
عبد الباسط عبد
الصمد سے امریکہ میں ملاقات ہوئی ، وہ
قران مجید کی تلاوت بہت کرتے تھے اور میں کبھی اردو کبھی انگلش اس سے متعلقہ کچھ
بیان کر دیتا تھا مجھ سے بہت محبت کرتے تھے وہ میرا نام نہیں لیتے تھے انہوں نے
میرا نام رکھا ہوا تھا رجل صالح ہمیشہ پوچھتے تھے نماز پڑھانے کا وقت اتا میں نے
کہتا جی کہ اپ نماز پڑھائیں وہ کہتے ہیں یہ کیسے پاسیبل ہے کہ اپ کی موجودگی میں
میں نماز پڑھوں گا اپ پڑھائیں گے تو میں تو کئی رات نہیں جانتا صحیح طرح لیکن
بہرحال وہ میری غلطیوں پہ صبر کر لیتے تھے اور میں نماز پڑھا دیتا تھا ان کے اندر
میں نے ایک خوبی دیکھی ہر وقت قران سے تلاوت کرتے رہتے تھے ہر وقت یعنی ہم لوگ تو
رمضان میں وقت کا خیال کرتے ہیں نا کہ جی قران پڑھیں فارغ نہ بیٹھے ہیں ان کی پوری
زندگی کا یہ معمول تھا ہم نے اندازہ لگایا کہ وہ شاید ایک قران مجید روزانہ پڑھنے
کے عادی تھے ان کے بیٹے سے ہم نے پوچھا اس نے کہا جی ابو تو ہر وقت بیٹھے قران پڑھ
رہے ہوتے ہیں امی کوئی بات پوچھتی ہے تو وہ تلاوت کو ایک جگہ روک کر جواب دیتے ہیں
پھر پڑھنا شروع کر دیتے ہیں امی کہتی ہے ان سے تو بات کرنے کا مزہ ہی نہیں ہے جواب
ہی نہیں دیتے صحیح طریقہ سے اور ان سے پوچھیں تو وہ کہتے ہیں بھئی میں اللہ کا
قران پڑھ رہا ہوں مجھے باتیں کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے مجھے کوئی ضرورت نہیں باتیں
کرنے کی ہم دن رات کے کسی بھی حصے میں جب گئے ان کو ملنے کے لیے ہم نے دیکھا کہ وہ
ویسے قران پڑھ رہے ہیں میں نے اپنی زندگی میں اتنا قران پاک پڑھتا ہے بہت کم لوگوں
کو دیکھا ہوگا ایک بات مجھے اکثر جو ہے وہ پریشان کرتی تھی کہ اگر نیکی ان کی
طبیعت میں اتنی ہے کوئی فالتو بات نہیں کوئی دنیا کی بات نہیں سیاست کی بات کرو تو
وہ ایسے بونگے من کے بیٹھے ہوتے تھے جیسے پتہ ہی نہیں ان کو کیا ہو رہا ہے کوئی
دلچسپی تھی نہیں تو یہ داڑھی کیوں مڑتے ہیں تو بعد میں انہوں نے کہا کہ علماء جو
مصر کے ہیں ان کو ایک علمی مغالطہ ہے وہ داڑھی کو سنت نہیں سمجھتے یا واجب نہیں
سمجھتے جس طرح ہم سمجھتے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ داڑھی اسی لیے رکھی جاتی ہے کہ مرد
اور عورت کے درمیان فرق ہو سکے دیکھنے سے پتہ چلے یہ مرد ہے اور جس کی داڑھی نہیں
یہ عورت ہے چنانچہ مصر کے علماء کو اپ دیکھیں گے تو داڑھی اور مونچھ اکٹھی کبھی
نہیں منڈیں گے کوئی عالم اپ کو ایسا نہیں ملے گا جو مونچھ بھی مڑتا ہو اور داڑھی
بھی مڑتا ہو وہ داڑھی منڈے گے تو مونچھ ضرور رکھیں گے اور وہ کہتے ہیں کہ جی مچھوں
کے رکھنے سے پتہ چل جاتا ہے یہ عورت نہیں ہے تو داڑھی کا مقصد پورا ہو گیا شاید
یہی مغالطہ علامہ اقبال کو بھی لگا ہوگا ورنہ اس کے اندر تو ایمان بہت مضبوط تھا
لیکن داڑھی جو شیو کرتا تھا وہ اسی علم مغالطے کی وجہ سے کرتا ہوگا اس لیے مصر میں
جو مفتی اعظم ہوتا ہے وہ بھی داڑھی منڈا ہوتا ہے تو یہ علمی مغالطے جو ان علماء کو
لگا ہمارے علماء کو اللہ تعالی نے اس میں بہت صحیح جگہ پر پہنچایا اور انہوں نے
لکھا کہ داڑھی رکھنا تو واجب ہے البتہ ایک منٹ تک اس کو بڑھانا یہ سنت ہے اور صحیح
مسئلہ بھی یہی ہے تو بہرحال ان کی ہم نے قرات مختلف موقعوں پہ سنی ایک دفعہ ہم نے
ایک جگہ کھانا کھایا تو ایک ہمارے دوست تھے وہ قاری صاحب کو کہنے لگے کہ اج سورہ
الرحمن کی تلاوت سنائی ہمیں برا لگا کہ لوگ ایسے ہی فرمائشیں کر دیتے ہیں پتہ نہیں
دوسرے کی طبیعت بحال ہے یا نہیں فریش ہونا بھی تو ضروری ہوتا ہے نا لیکن قاری صاحب
سنبھل کے بیٹھ گئے اور انہوں نے سورہ رحمن کی تلاوت کی اور دل خوش ہو گیا کیا اللہ
نے ان کو اواز عطا کی تھی ہم تو پاس بیٹھ کے سنتے تھے نا ایسے جو اپ قسطوں میں
سنتے ہیں وہ ہم پریکٹیکلی ان کے پاس بیٹھ کے سنتے تھے تو میں اللہ کے اس جو ہے وہ
نعمت پہ حیران ہوتا تھا یا اللہ اپ نے ان کو کیسی مترنہ اواز دی ہے کیسا گلا دیا
ہے جو قران مجید کو اتنا خوبصورت طریقے سے پڑھتے ہیں نبی علیہ السلام نے ارشاد
فرمایا تم قران مجید کو مزین کر کے پڑھو یعنی اچھے طریقے سے پڑھو واقعی انہوں نے
حق ادا کر دیا قران مجید پڑھتے تھے دل خوش ہو جاتا
No comments:
Post a Comment