8/19/26

بسم اللہ کا عمل محبت کے لئیے اکسیر ہے

 بسم اللہ الرحمان الرحیم

کو سات سو چھیاسی مرتبہ پڑھیں اور کسی بھی کھانے کی چیز پر دم کر کے مطلوب کو کھالانے سے مطلوب کے دل میں محبت پیدا ہو جاتی ہے۔ لیکن یاد رہے صرف جائز مقصد کے لئیے استعمال کریں۔ اگر ناجائز کام کے لئیے استعمال کروگےتو گناہ ملے گا۔ پڑھنے سے پہلے اول أخر ۱۱ مرتبہ درود شریف بھی پڑھیں

8/3/26

خوابوں کی تعبیر جانیے

 

سرہانے کو خواب میں دیکھنے کی تعبیر

حضرت امام کرمانی رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں اگر کسی کو یہ خواب اوے کہ کوئی شخص اس کے گھر سے سرہ نہ لے کر دوسرے گھر میں چلا گیا ہے تو اس کی تعبیر یہ ہے کہ کوئی شخص اس کی عورت کو اغوا کرنا چاہتا ہے 

تعبیر رویا صفحہ  ۴۳

خواب میں باغ دیکھنا

حضرت ابراہیم کرمانی فرماتے ہیں کہ خواب میں باغ سے مراد مالدار اور صاحب جمال ادمی مراد ہوتا ہے اگر کوئی خواب دیکھے کہ موسم بہار یا گرمی کے دنوں میں وہ خوش اور خرم باغ میں پھر رہا تھا اور باغ میں طرح طرح کے میوے لگے ہوئے تھے اور رنگا رنگ کے پھول اور سبزے کھل رہے ہیں اور پانی جاری تھا اس باغ میں بیٹھا ہوا تھا تو اس کی تعبیر یہ ہے کہ خواب والا شہادت کی موت مرے گا کیونکہ یہ تمام صفت جنت کی ہے۔

آسمان کو خواب میں دیکھنا

 اگر خواب دیکھنے والا خواب دیکھے کہ وہ اسمان میں چلا گیا ہے اور واپس نہیں ایا ہے تو اس بات کی دلیل ہے کہ وہ بیمار ہوگا اور اس کی موت واقع ہوگی اگر وہ اسمان سے واپس اگیا ہے تو اس بات کی دلیل ہے کہ بیماری سخت ہوگی اخر کار ٹھیک ہو جائے گا 

 

 

سورج ، آئینہ اور آرا مشین خواب میں دیکھنے کی تعبیر

 

سورج   ،   آئینہ اور آرا مشین خواب میں دیکھنے کی تعبیر

حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں اٹا چھاننے کی چھلنی کی تعبیر ان چار چیزوں سے کی جاتی ہے نمبر ایک نیک مرد دو واحیات عورت تین برا نوکر یا خادم اور چار پشت تھوڑا سا نفع

 سورج کو خواب میں دیکھنے کی تعبیر اٹھ وجہوں سے ہوتی ہے اول خلیفہ دوم بڑا بادشاہ سوم رئیس چہارم بزرگ عامل پنجم عادل بادشاہ ششوم رعیت کا فائدہ ہفت مرد کے لیے عورت اور عورت کے لیے مرد حشتم کوئی روشن اور نیک کام کرے

 نیز اپ کا یہ قول بھی ہے اگر کوئی شخص خواب میں اپنے اپ کو دیکھے کہ وہ سورج کو سجدہ کر رہا تھا تو اس کی تعبیر ہے کہ بادشاہ اس کو کوئی عزت بخشنے والا ہے اور اپنا مقرب بنانے والا ہے اور اس کا کاروبار بڑھ چڑھ کر رہے گا

 ائینہ یعنی شیشہ خواب میں دیکھنے کی تعبیر یہ ہے ائینہ خواب میں دکھائی دینا چھ وجہوں پر ہوتا ہے اول عورت دوم لڑکی سوم جا اور حشمت چار اور دوست پنجم شریک ششم اچھا کاروبار اپ کا یہ قول ہے کہ اگر کوئی غریب ادمی خواب میں ائینہ دیکھے تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ کسی عورت سے شادی کرے گا اور بزرگی پائے گا اور اگر کوئی لڑکی ائینہ دیکھے تو اس کی تعبیر یہ ہے کہ وہ اس کو ایسا اچھا خاون ملے گا جس کے پاس وہ عزت اور ابرو سے زندگی گزارے گی

 خواب میں لکڑی چیرنے کا ارا دیکھنا

ب میں لکڑی چیرنے کا ارا دیکھنا چھ وجوہات کی بنا پر ہوتا ہے اول فرزند دوم بہن یا بھائی سوم شریک اور ہم سر

 

کن لوگوں سے خواب کی تعبیر پوچھنا منع ہے

 

 

کن لوگوں سے خواب کی تعبیر پوچھنا منع ہے

حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں چار قسم کے لوگوں سے تعبیر مت پوچھا کریں نمبر ایک بے دین لوگوں سے جو شریعت کے پابند نہیں ہیں کیونکہ تعبیر خواب نیک اور بابرکت لوگوں سے پوچھنی چاہیے اور بے دین لوگ خدا کی نافرمانی کے باعث راندے درگاہ ہوتے ہیں ان میں خیر اور برکت کہاں

نمبر دو عورتوں سے کیوں کی تعبیر خواب میں بڑی عقل اور سمجھدار درکار ہے اور یہ ظاہر ہے کہ عورتیں ناقص العقل ہوتی ہے اس لیے شریعت محمدی میں دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کی گواہی کے قائم مقام رکھی گئی ہے

 نمبر تین جاہلوں سے جو علم دینی بخوبی واقف نہ ہو دنیاوی علوم سے خواہ وہ ولایت پاز ہی کیوں نہ ہو کیونکہ پہلے مذکور ہو چکا ہے کہ علم تفسیر اور قران کا جاننا لازمی ہے

 دشمنوں سے تعبیر نہیں پوچھنا چاہیے کیونکہ دشمن بھی خیر اور برکت سے خالی ہوتے ہیں نیز ان سے یہ بھی اندیشہ ہے کہ وہ خواب کی تعبیر بری بتا دیں اور یہ ظاہر ہے کہ خواب کی تعبیر جیسی بتائی جائے گی ویسے ہی واقع ہو جاتی ہے چنانچہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے وہ قضی الامر الذی فی فیہ تفتیان 

یوسف علیہ الصلوۃ والسلام جیل میں فرماتے ہیں کہ یہ میرے جیل کے دونوں رفیق ہو جس جس بات کی تم نے مجھ سے تعبیر پوچھی وہ میری تعبیر کے مطابق ہی بحکم خدا واقع ہو جائے گی اس لیے تعبیر نہیں پوچھنا چاہیے ہر کسی سے

 

7/14/26

Is investing in cryptocurrency halal or num What is its status in Islam?

 Is investing in cryptocurrency halal or num What is its status in Islam?

Answer Investing in cryptocurrency is haram. The Encyclopedia of Trade Issues states: "Bitcoin" is just a fictitious currency, it does not have the basic characteristics and conditions of real currency at all, therefore, the business that is going on on the internet and in the electronic market in the name of buying and selling "coins" or "digital currency" in the present era is not halal and permissible, it is just a fraud, there is no material thing in it in reality, and there is no possession in it, only some numbers are added to the account, and it is a form of interest and gambling like Forex trading, therefore, it is not permissible to invest money in the so-called business of "Bitcoin" or any "digital currency" and to get involved in buying and selling. (2/92) Only Allah knows Fatwa number Darul Iftaa: Jamia Uloom Islamia Allama Muhammad Yusuf Banuri Town

7/13/26

Playing such games and earning money through them is unlawful according to Sharia.

 Nowadays, a game that has come to mobile phones is called pubg. Is it halal or haram to earn money on it?


Answer


Playing such games and earning money through them is unlawful according to Sharia.


For any type of game to be permissible, the following conditions must be met, otherwise that game will be unlawful according to Sharia due to its involvement in blood and gambling:


1. The game itself should be permissible, there should be no unlawfulness in it.


2. The game should have some religious or worldly benefit, such as physical exercise, etc., and should not be played just for blood or to pass the time.


3. The game should not involve any unlawful activities, such as gambling, etc.


4. The game should not be so extreme that it leads to negligence or neglect of Sharia obligations.


 The result is that the online games that are available today contain the aforementioned defects, and while being busy with them, one neglects and neglects one’s religious duties and obligations; therefore, playing them and earning money through them is forbidden according to the Sharia.


In Ruh al-Ma’ani it is stated:


“And this is the Hadith based on what was narrated from al-Hasan, whatever distracts you from worshipping Allah and remembering Him is from the sun, the sacrifices, the myths, the singing, and the like.” (Tafsir al-Alusi (11/66), Surah Luqman, published by Dar al-Kutb al-Ilmiyah)


In Takmeel Fatah al-Mulhim it is stated:


“The one who is in charge of this . . . is that Allah is the abstract One who has no purpose under Him, and has no true purpose, useful in livelihood, nor is the reward forbidden or disliked, forbidden, . . .  And what was the purpose of it and religious or worldly interest, because the word of God prohibits him from the book or the Sunnah.  .  .  Whether it is forbidden or abominable, ... and as for the knowledge that prohibiting it from the street and its benefit and benefit to people, it is, according to the jurisprudence, of two types, the first is what experience has shown that the harm is greater than the benefit and the damage is greater than the profit, and that it is from the work of God for the remembrance of God alone and from prayer and the mosques.  Also, it is makruh to work with the intention of falsification and deception, and if it is to work for the purpose of profit and the purpose of seeking good, it is permissible, but it is worthy of piety to the degree of al-Istihab or greater than it.  .  .  And on this basis, the games that are meant to exercise the mind or the mind are a reward in themselves, which does not include another sin, and does not lead to indulging in it to the disturbance of the duty of man in his religion and world.  (Takamla Fathul-ul-Mulham, Qib Kitab al-Rawiya, (4/435) i: Darul Uloom Karachi) 

 Also see the following fatwa:

6/25/26

امام حسین رضی اللہ عنہ کا تعارف

  

حسین بن علی بن ابی طالب ( عربی: ٱلْحُسَيْن ٱبْن عَلِيّ 10 جنوری 623 - 10 اکتوبر 680) محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نواسے اور علی ابن ابی طالب اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی فاطمہ زہرا کے بیٹے تھے۔ وہ اسلام میں ایک اہم شخصیت ہیں کیوں کہ وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے آل میں سے ہیں اور اہل تشیع مکتب فکر میں تیسرے امام بھی سمجھے جاتے ہیں۔ 'حسین بن علی محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چھوٹے نواسے اور علی بن ابی طالب و فاطمہ زہرا کے چھوٹے بیٹے تھے۔ حسین' نام اور ابو عبد اللہ کنیت ہے۔ ان کے بارے میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ حُسَيْنٌ مِنِّي وَأَنَا مِنْ حُسَيْنٍ أَحَبَّ اللَّهُ مَنْ أَحَبَّ حُسَيْنًا حُسَيْنٌ سِبْطٌ مِنْ الْأَسْبَاطِ یعنی 'حسین مجھ سے ہیں اور میں حسین سے ہوں جو حسین سے محبت کرے اللہ اس سے محبت کر۔ حسین میرے الْأَسْبَاطِ میں سے ایک سِبْطٌ ہے'[4] حسین بن علی بن ابی طالب (4-61 ھ) اباعبد اللہ و سید الشہداء کے نام سے مشہور شیعوں کے تیسرے امام ہیں۔ دس سال منصب امامت پر فائز رہے اور واقعہ کربلا میں شہید ہوئے۔ آپ علی ابن ابی طالب اور فاطمہ زہرا کے دوسرے بیٹے اور پیغمبر اکرم ؐ کے نواسے ہیں۔ شیعہ اور اہل سنت تاریخی مصادر کے مطابق پیغمبر خداؐ نے آپؑ کی ولادت کے دوران میں آپ کی شہادت کی خبر دی اور آپ کا نام حسین رکھا۔ رسول اللہ حسن بن علی اور حسین بن علی کو بہت چاہتے تھے اور ان سے محبت رکھنے کی سفارش بھی کرتے تھے۔ امام حسینؑ اصحاب کسا میں سے ہیں، مباہلہ میں بھی حاضر تھے اور اہل بیتِ پیغمبر میں سے ایک بھی ہیں جن کی شان میں آیۂ تطہیر نازل ہوئی ہے۔ امام حسینؑ کی فضیلت میں آنحضرتؐ سے بہت ساری روایات بھی نقل ہوئی ہیں انہی میں سے یہ روایات بھی ہیں؛ «حسن اور حسین جنت کے جوانوں کے سردار ہیں» نیز «حسین چراغ ہدایت اور کشتی نجات ہے۔» [حوالہ درکار] اپنی وفات سے قبل، اموی حکمران معاویہ نے حسن معاویہ معاہدے کے برخلاف اپنے بیٹے یزید کو اپنا جانشین مقرر کیا۔ [5] جب معاویہ 680ء میں فوت ہوئے تو، یزید نے مطالبہ کیا کہ حسین اس کی بیعت کریں۔ حسین نے یزید سے بیعت کرنے سے انکار کر دیا، حالانکہ اس کا مطلب اپنی جان کی قربانی دینا تھا۔ نتیجہ کے طور پر، انھوں نے 60 ہجری میں مکہ مکرمہ میں پناہ لینے کے لیے، اپنے آبائی شہر مدینہ چھوڑ دیا۔ [6] وہاں، کوفہ کے لوگوں نے ان کو خط بھیجا اور بیعت کا وعدہ کیا۔ چنانچہ اپنے رشتہ داروں اور پیروکاروں کے ایک چھوٹے سے قافلے کے ساتھ کچھ سازگار اشارے ملنے کے بعد، کوفہ کی طرف روانہ ہوئے [7] لیکن کربلا کے قریب انھیں یزید کی فوج نے روک لیا۔ یزید نے 10 اکتوبر 680 (10 محرم 61 ہجری) کو، کربلا کی لڑائی میں ان کے بیشتر اہل خانہ اور ساتھیوں سمیت، جس میں حسین کا چھ ماہ کا بیٹا، علی الاصغر، خواتین اور بچوں سمیت قتل کیا گیا تھا اور ان کا سر قلم کر دیا گیا تھا۔ [8][9][10] اسلامی تقویم کے پہلے مہینے محرم کے دوران میں حسین اور اس کے بچوں، کنبہ اور ساتھیوں کی سالانہ یاد منائی جاتی ہے۔ جس دن انھیں شہید کیا گیا عاشورہ (محرم کی دسویں تاریخ، شیعہ مسلمانوں کے سوگ کا دن ) کے نام سے جانا جاتا ہے )۔ حسین علیہ السلام کے اعمال کربلا بعد میں شیعہ تحریکوں کے لیے ایندھن بنے[10] حسین کی زندگی اور شہادت کا وقت انتہائی اہم تھا کیونکہ وہ ساتویں صدی کے سب سے مشکل دور میں تھے۔ اس وقت کے دوران میں، اموی مظالم زور پکڑ گئے تھے اور حسین اور اس کے حواریوں نے جو موقف اختیار کیا، وہ مظالم اور ناانصافیوں کے خلاف آئندہ کی بغاوت کو متاثر کرنے والی مزاحمت کی علامت بن گیا۔ پوری تاریخ میں، نیلسن منڈیلا اور مہاتما گاندھی جیسی متعدد قابل ذکر شخصیات نے ظلم کے خلاف حسین کے موقف کو مثال کے طور پر پیش کیا ہے کہ وہ ناانصافی کے خلاف اپنے لڑائی لڑ رہے ہیں۔ [11] حسین نے اپنی زندگی کے ابتدائی سات سال اپنے نانا، محمد کے ساتھ گزارے۔ محمد کے حوالہ جات نقل کیے گئے ہیں جو حسین اور اس کے بھائی حسن مجتبیٰ میں اپنی دلچسپی ظاہر کرتے ہیں۔ جیسے: "حسن اور حسین جنت کے نوجوانوں کے مالک ہیں۔" حسین کے بچپن کا سب سے اہم واقعہ مباہلہ کی تقریب میں شرکت کرنا اور مباہلہ کی آیت میں "ابناءَنا " کہلائے جانا ہے۔ علی ابن ابی طالب کی خلافت کے دوران میں، حسین اپنے والد کے نقش قدم پر تھے اور جنگوں میں ان کے ساتھ تھے۔ پھر، اس نے معاویہ کے ساتھ اپنے بھائی کے امن معاہدے پر قائم رہا اور معاویہ کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔ تاہم، اس نے معاویہ کی جانب سے اسلام میں صلح نامہ اور مذاہب کے خلاف یزید کو ولی عہد کی حیثیت سے قبول کرنے کی درخواست پر غور کیا اور اسے قبول نہیں کیا۔ 60 ھ میں معاویہ کی موت کے بعد، انھوں نے یزید کے ساتھ بیعت کرنے سے گریز کیا اور اپنے اہل خانہ کے ساتھ مکہ چلے گئے اور چار ماہ تک وہیں مقیم رہے۔ کوفہ کے لوگ ، جو زیادہ تر شیعہ تھے، معاویہ کی موت پر خوش تھے اور انھوں نے حسین کو ایک خط لکھا کہ وہ اب بنی امیہ کی حکومت کو برداشت نہیں کریں گے اور اس سے بیعت کریں گے۔ حسین نے اپنے کزن، مسلم بن عقیل کو بھی، وہاں اس صورت حال کی چھان بین کے لیے بھیجا۔ پھر، کوفہ کے نئے حکمران عبید اللہ ابن زیاد کے اقدامات کے نتیجے میں، لوگ خوفزدہ ہو گئے اور مسلم کو تنہا چھوڑ گئے۔ حسین، کوفہ میں ہونے والے واقعات سے بے خبر، اپنے دوستوں کے ایما پر ذوالحجہ 60ھ میں کوفہ کے لیے روانہ ہوئے، خدا نے وہ کیا کرنا چاہا۔ اس سڑک کے وسط میں، حرف ابن یزید ریاحی کی سربراہی میں کوفہ کی سپاہ نے کوفہ جانے والے قافلے کا راستہ روک لیا اور اس کے نتیجے میں یہ قافلہ اپنے راستے سے ہٹ گیا اور سن 61 ہجری میں محرم کے دوسرے دن کو کربلا پہنچے۔ عمر بن سعد کی کمان میں محرم کے تیسرے دن سے فوجیں کوفہ سے اس علاقے میں داخل ہوگئیں۔ محرم کے دسویں دن کی صبح، عاشورہ، حسین نے اپنی فوج تیار کی اور گھوڑے پر سوار ہوکر ابن سعد کی فوج کو خطبہ دیا اور ان سے اپنا مؤقف بیان کیا۔ لیکن اسے دوبارہ بتایا گیا کہ اسے پہلے یزید کے سامنے ہتھیار ڈالنا ہوں گے۔ اس نے جواب دیا کہ وہ کبھی خود کو غلام کی حیثیت سے سرنڈر نہیں کرے گا۔ یوں، کربلا کی جنگ شروع ہوئی اور دونوں فریقوں کی ایک بڑی تعداد ہلاک ہو گئی۔ دوپہر کے بعد، حسین کی فوج کا بہت محاصرہ کیا گیا۔ اس کے سامنے حسین کے ساتھیوں اور کنبہ کے قتل کے ساتھ، وہ آخر کار تنہا رہ گیا اور اس کے سر اور بازو کو زخمی کر دیا اور اس کے چہرے کے بل زمین پر گر پڑے اور سنان ابن انس نخعی یا شمر بن ذی الجوشن نے ان کا سر کاٹ دیا۔ جنگ ختم ہوئی اور ابن زیاد کے سپاہیوں نے لوٹ مار کی۔ ابن سعد نے میدان جنگ چھوڑنے کے بعد، بنی اسد نے حسین اور دوسرے مقتول کو وہاں دفن کر دیا۔ حسین کا سر، دوسرے بنوہاشم کے سروں کے ساتھ، قیدیوں کے ایک قافلے کے ساتھ کوفہ اور دمشق لے جایا گیا۔ تمام اسلامی مذاہب، بنوامیہ کے حامیوں کے علاوہ، حسین کو محمد کا نواسہ اور صحابی کہتے ہیں۔ شیعہ اسے ایک معصوم امام اور شہید سمجھتے ہیں۔ بہت سارے مسلمان خصوصا شیعہ کربلا کی برسی پر سوگ مناتے ہیں۔ ان کے بقول، حسین کوئی من مانی باغی نہیں تھا جس نے ذاتی مفاد کے لیے اپنی اور اپنے اہل خانہ کی جان قربان کردی۔ انھوں نے معاویہ کے ساتھ معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کی بلکہ یزید سے بیعت کرنے سے انکار کر دیا۔ اپنے والد کی طرح، اس کا بھی ماننا تھا کہ خدا نے اہل بیت کو محمد کی قوم کی رہنمائی کے لیے منتخب کیا ہے۔ اور کوفی خطوط کی آمد کے ساتھ ہی اس نے اپنے چاہنے والوں کے مشورے کے برخلاف، فرض شناسی کا احساس محسوس کیا۔ تاہم، انھوں نے جان بوجھ کر شہادت کی تلاش نہیں کی۔ اور یہ واضح ہونے کے بعد کہ اسے کوفیوں کی حمایت حاصل نہیں ہے، اس نے عراق چھوڑنے کی پیش کش کی۔ مسلم ثقافتوں، خاص طور پر شیعوں کے مشہور ثقافت، فن اور ادب میں، حسین اور اس کے ساتھیوں کی زندگی اور قتل عام کے بارے میں بہت سارے کام ہیں۔۰

 

Featured Post

بسم اللہ کا عمل محبت کے لئیے اکسیر ہے

 بسم اللہ الرحمان الرحیم کو سات سو چھیاسی مرتبہ پڑھیں اور کسی بھی کھانے کی چیز پر دم کر کے مطلوب کو کھالانے سے مطلوب کے دل میں محبت پیدا ہو ...