4/2/26

حضرت موسی ؑ کا واقعہ اور محبت کا وظیفہ

 حضرت موسی ؑ کا واقعہ اور محبت کا وظیفہ

یہ وہ زمانہ تھا کہ فرعون کو نجومیوں نے ایک خواب کی تعبیر دی تھی کہ اسرائیل میں ایک بچہ پیدا ہوگا اور وہ تیری حکومت مصر 10 نس کر دے گا تہ و بالا کر دے گا تو فرعون نے حکم دے دیا کہ جو بھی بچہ پیدا ہو وہ قتل ہو جائے ایت موسی جب پیدا ہوئے تو ماں کو برداشت نہیں ہوا کہ وہ اسے قتل کرے اللہ نے اس کے دل میں یہ بات ڈالی کہ اس کو کپڑے میں لپیٹو اور بکس میں رکھو اور بخش بن کر کے دریا میں چھوڑو خیر لمبا قصہ ہے سورۃ طہ اور قصص میں اب وہ صندوق جس میں حضرت موسی ہیں وہ دریائے نیل سے اس سمت پہ چل پڑا جہاں سے نہر فرعون کے دربار میں جا رہے ہیں اندازہ لگا ہو فرعون کی بیوی اوپر بیٹھی تھی اس نے دیکھا کہ بھئی صندوق پانی میں جا رہا ہے نوکر ہوگا پکڑو جب پکڑ کے لایا گیا اور کھولا گیا تو اس میں حضرت موسی علیہ السلام بیٹھے ہوئے اللہ تعالی نے اس کے دل میں ایسی محبت ڈالی کہ اس نے کہا یہ بچہ ہم پال قران کریم میں اللہ فرماتا ہے میں نے اپ کی محبت پیدا کی مفسرین لکھتے ہیں کہ حضرت موسی کو ماں نے دیکھا تو قتل سے باز ائی فرعون کی بیوی نے دیکھا تو بیٹا بنانے لگی فرعون نے دیکھا تو فرعونیت بھول گیا ورنہ یہی تو انتظام ہوا ہے اتنی عقل اس کی نہیں تھی کہ یہ انہی بچوں میں سے کوئی ہوگا جو میری سلطنت کو تس نس کر دے گا وہ بھی رضامند ہو گیا کہ چلو اس کو پال لیتے ہیں یہ ایت اگر کاغذ پر لکھ کر کے مغرب و عشاء کے درمیان بغیر لکیروں والے کے اور پاس رکھیں جو ناحق تنگ کرتا ہے وہ محبت کرنے لگے گا آیت یہ ہے

وَاَلقیتُ علیک محبۃ منی ولتصنع علی عینی

وظیفہ شیخ الحدیث حضرت مفتی محمد زرولی خان  ؒ

 

No comments:

Post a Comment

Featured Post

قرآن مجید کا تعارف۔اور قرآن کریم کی حفاظت

 قرآن مجید کا تعارف لفظ قرآن قراءة " سے ہے جس کے معنی پڑھنے کے ہیں ، چوں کہ قرآن مجید ایسی واحد کتاب ہے جو دنیا میں سب سے زیادہ پڑھی جا...