4/15/26

اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر مبنی ہے

 

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اسلام

اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر مبنی ہے

۱:   اللہ ایک ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالی کے اخری نبی اور رسول ہیں،

نماز قائم کرنا       ۲:

۳:       زکواۃ دینا

۴:       صاحب استطاعت کے لیئے  بیت اللہ کا حج کرنا

۵:  رمضان کے روزے رکھنا

حدیث مبارکہ

حضرت عبد للہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ، انہوں نے رسول اللہ   (     )   کو یہ فرماتے ہوئے سنا کی

اسلام کی بنیاد پانچ امور پر ہیں۔   اول اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اور محمد  ( ﷺ ) اللہ تعالی کے

آخری رسول ہیں۔  نماز قائم کرنا، اور  زکات دینا۔  بیت اللہ کا حج کرنا۔ اور رمضان کے روزے رکھنا۔

حدثنا عبید اللہ بن موسی قال اخبرنا حنظلہ بن ابی سفیان عن عکمرمہ بن خالد عن ابن عمر  رضی اللہ عنھما قال  :قال رسول اللہ    بنی الاسلام علی خمس :شھادۃ ان لا الہ الا اللہ  وان محمدا رسول اللہ اقام الصلاۃ ، ایتاء الزکاۃ، والحج، وصوم رمضان

 

( صحیح بخاری جلد ۱ صفحہ  ۱۱         صحیح مسلم جلد ۱ صفحہ ۳۷

نوٹ:     کلمہ شہادت اور عملی زندگی

کلمہ شہادت ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ہم صرف اور صرف ایک اللہ کی عبادت کریں اور اسی کے سامنے جھکے مشکل کشا اور حاجت روا صرف اور صرف اللہ کی ذات کو سمجھے اور خالق حقیقی اسی کو مانے اور اس کے ہر احکام پر عمل کرے۔

۲نماز اور ہماری عملی زندگی:

نماز انسان کو وقت کی پابند بناتی ہے اور اپس میں ہم اہنگی پیدا کرتی ہے اور نماز پڑھنے سے انسان کے اندر توحید کا جذبہ پیدا ہوتا ہے اور انسان صرف ایک اللہ کے اگے جھکتا ہے اور معبود حقیقی اسی کو تصور کرتا ہے اور انسان کے اندر عاجزی پیدا ہو جاتی ہے۔

زکات اور ہماری عملی زندگی:

زکوۃ دینے سے معاشرے میں غریبوں کی مدد ہوتی ہے اور باہمی محبت اور ان جاتی ہے اور ایک دوسرے کے درد اور غم کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے اور معاشرے سے غربت کا خاتمہ ہو جاتا  ہے۔

حج کا  عملی تعلق

حج ہمیں اتحاد اور بھائی چارے کا درس دیتا ہے

روزہ کا عملی تعلق

روزہ ہمیں صبر کرنا سکھاتا ہے، اور روزہ رکھنے سے دوسرے لوگوں کا احساس ہوتا ہے

محمد زاہد  گلگت

 

No comments:

Post a Comment

Featured Post

The Battle of Badr: The First Decisive Battle of Islam

   The Battle of Badr: The First Decisive Battle of Islam Reason for the invasion: In the account of the Battle of Ashira, we have already m...