خلیفہ ثالث حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ
ابو عبد اللہ عثمان بن عفان اموی قرشی (47 ق ھ - 35 ھ / 576ء – 656ء)[کے اسلام کے تیسرے خلیفہ، داماد رسول اور جامع قرآن تھے۔ عثمان غنی سابقین اسلام میں شامل اور عشرہ مبشرہ میں سے تھے، ان کی کنیت ذو النورین ہے کیونکہ انھوں نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دو صاحبزادیوں سے نکاح کیا تھا، پہلے رقیہ بنت محمد رضی اللہ عنہا سے کیا، پھر ان کی وفات کے بعد ام کلثوم بنت محمد سے نکاح کیا۔ عثمان غنی پہلے صحابی ہیں جنھوں نے سرزمین حبشہ کی ہجرت کی، بعد میں دیگر صحابہ بھی آپ کے پیچھے حبشہ پہنچے۔ بعد ازاں دوسری ہجرت مدینہ منورہ کی جانب کی۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عثمان غنی پر مکمل اعتماد اور ان کی فطری حیاء و شرافت اور جو انھوں نے اپنے مال کے ذریعہ اہل ایمان کی نصرت کی تھی، اس کی انتہائی قدر کرتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیگر صحابہ کے ساتھ ان کو بھی جنت اور شہادت کی موت کی خوش خبری دی۔[9]
سنہ 23ھ (644ء) میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد مشورہ سے آپ کو خلافت کی ذمہ داری سونپی گئی، جسے انھوں نے 644ء سے 656ء تک انجام دی۔[10] ان کے عہد خلافت میں جمع قرآن مکمل ہوا، مسجد حرام اور مسجد نبوی کی توسیع ہوئی اور قفقاز، خراسان، کرمان، سیستان، افریقیہ اور قبرص وغیرہ فتح ہو کر سلطنت اسلامی میں شامل ہوئے۔ نیز انھوں نے اسلامی ممالک کے ساحلوں کو بازنطینیوں کے حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے اولین مسلم بحری فوج بھی بنائی۔[10][عثمان غنی کا نسب حسب ذیل ہے
: «عثمان بن عفان بن ابو العاص بن امیہ بن عبد شمس بن عبد مناف بن قصی بن كلاب بن مرہ بن کعب بن لوی بن غالب بن فہر بن فہر بن مالک بن النضر بن کنانہ (اسی کا لقب قریش تھا) بن کنانہ بن خزیمہ بن مدرکہ بن الیاس بن مضر بن نزار بن معد بن عدنان»، عثمان غنی کا نسب عبد مناف بن قصی کے بعد محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نسب سے مل جاتا ہے۔
والدہ: «اروی بنت کریز بن ربیعہ بن حبیہب بن عبد شمس بن عبد مناف بن قصی بن كلاب بن مرہ بن کعب بن لوی بن غالب بن فہر بن مالک بن النضر بن کنانہ بن خزیمہ بن مدرکہ بن الیاس بن مضر بن نزار بن معد بن عدنان»، ان کی والدہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پھوپھی زاد بہن تھیں اور ان کی نانی کا نام بیضاء ام حکیم بنت عبدالمطلب تھا۔،[18][19][20][21] اسی طرح حضرت عثمان ؓ کا سلسلہ پانچویں پشت میں عبد مناف پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مل جاتا ہے، حضرت عثمان ؓ کی نانی بیضا ام الحکیم حضرت عبد اللہ بن عبدالمطلب کی سگی بہن اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی تھیں اس لیے وہ ماں کی طرف سے سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے قریشی رشتہ دار ہیں،[22] آپ کو ذوالنورین (دونوں نوروں والا) اس لیے کہا جاتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دو صاحبزادیاں یکے بعد دیگر ے ان کے نکاح میں آئیں۔ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا خاندان ایام جاہلیت میں غیر معمولی وقعت و اقتدار رکھتا تھا، آپ کے جد اعلیٰ امیہ بن عبد شمس قریش کے رئیسوں میں تھے، خلفائے بنو امیہ اسی امیہ بن عبد شمس کی طرف سے منسوب ہوکر‘‘امویین’’ کے نام سے مشہور ہیں، عقاب یعنی قریش کا قومی علم اسی خاندان کے قبضہ میں تھا، جنگ فجار میں اسی خاندان کا نامور سردار حرب بن امیہ سپہ سالار اعظم کی حیثیت رکھتا تھا، عقبہ بن معیط نے جو اپنے زور اثر اور قوت کے لحاظ سے اسلام کا بہت بڑا دشمن تھا اموی تھا، اسی طرح ابوسفیان بن حرب جنھوں نے قبول اسلام سے پہلے غزوہ بدر کے بعد تمام غزوات میں رئیس قریش کی حیثیت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقابلہ کیا تھا اسی اموی خاندان کے ایک رکن تھے ؛غرض حضرت عثمان بن عفان ؓ کا خاندان شرافت، ریاست اور غزوات کے لحاظ سے عرب میں نہایت ممتاز تھا اور بنو ہاشم کے سوا دوسرا خاندان اس کا ہمسر نہ تھا۔ حضرت عثمان بن عفان ؓ واقعہ فیل کے چھٹے سال یعنی ہجرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے 47 برس قبل پیدا ہوئے، بچپن اور سن رشد کے حالات پردہ خفا میں ہیں ؛لیکن قرآئن سے معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے عام اہل عرب کے خلاف اسی زمانہ میں لکھنا پڑھنا سیکھ لیا تھا، عہد شباب کا آغاز ہوا تو اس تجارتی کاروبار میں مشغول ہوئے اور اپنی صداقت، دیانت اور راست بازی کے باعث غیر معمولی فروغ حاصل کیا۔
اسلام
حضرت عثمان بن عفان ؓ کا چونتیسواں سال تھا کہ مکہ میں توحید کی صدا بلند ہوئی، گو ملکی رسم و رواج اور عرب کے مذہبی تخیل کے لحاظ سے حضرت عثمان ؓ کے لیے یہ آواز نامانوس تھی، تاہم وہ اپنی فطری عفت، پارسائی، دیانتداری اور راستبازی کے باعث اس داعئی حق کو لبیک کہنے کے لیے بالکل تیار تھے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ایمان لائے تو انھوں نے دین مبین کی تبلیغ و اشاعت کو اپنا نصب العین قرار دیا اور اپنے حلقہ احباب میں تلقین وہدایت کا کام شروع کیا، ایام جاہلیت میں ان سے اور حضرت عثمان ؓ سے ارتباط تھا اور اکثر نہایت مخلصانہ صحبت رہتی تھی، ایک روز وہ حسب معمول حضرت ابوبکر صدیق کے پاس آئے اور اسلام کے متعلق گفتگو شروع کی، حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی گفتگو سے آپ اتنے متاثر ہوئے کہ بارگاہ نبوت میں حاضر ہوکر اسلام قبول کرنے پر آمادہ ہو گئے، ابھی دونوں بزرگ جانے کا خیال ہی کر رہے تھے کہ خود سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے اور حضرت عثمان ؓ کو دیکھ کر فرمایا، ‘‘عثمان !خدا کی جنت قبول کر، میں تیری اور تمام خلق کی ہدایت کے لیے مبعوث ہوا ہوں، حضرت عثمان ؓ کا بیان ہے کہ زبان نبوت کے ان سادہ و صاف جملوں میں خدا جانے کیا تاثیر بھری تھی کہ میں بے اختیار کلمہ شہادت پڑھنے لگا اور دست مبارک میں ہاتھ دیکر حلقہ بگوش اسلام ہو گیا۔[28] اس موقع پر یہ نکتہ بھی ذہن نشین رکھنا چاہیے کہ حضرت عثمان بن عفان ؓ کا تعلق اموی خاندان سے تھا جو بنو ہاشم کا حریف تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کامیابی کو اس لیے خوف وحسد کی نگاہ سے دیکھتا تھا کہ اس طریقہ سے عرب کی سیادت کی باگ بنو امیہ کے ہاتھ سے نکل کر بنو ہاشم کے دست اقتدار میں چلی جائے گی، یہی وجہ تھی کہ عقبہ بن ابی معیط اور ابوسفیان وغیرہ اس تحریک کے دبانے میں نہایت سرگرمی سے پیش پیش تھے ؛لیکن حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا آئنہ دل خاندانی تعصب کے گردو غبار سے پاک تھا، اس لیے اس قسم کی کوئی پیش بینی ان کی صفائے باطن کو مکدر نہ کر سکی، انھوں نے نہایت آزادی کے ساتھ اپنے خاندان کے خلاف اس زمانہ میں حق کی آواز پر لبیک کہا جبکہ صرف پینتیس یا چھتیس زن و مرد اس شرف سے مشرف ہوئے تھے۔
شادی
قبول اسلام کے بعد حضرت عثمان بن عفان۔ ؓ کو وہ شرف حاصل ہوا جو ان کی کتاب منقبت کا سب سے درخشاں باب ہے، یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی فرزندی میں قبول فرمایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی منجھلی صاحبزادی رقیہ ؓ کا نکاح پہلے ابو لہب کے بیٹے عتبہ سے ہوا تھا مگر اسلام کے بعد عتبہ کے باپ ابو لہب کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اتنی عداوت ہو گئی تھی کہ اس نے اپنے بیٹے پر دباؤ ڈال کر طلاق دلوادی، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صاحبزادی ممدوحہ کا دوسرا نکاح حضرت عثمان بن عفان ؓ سے کر دیا، حضرت عثمان بن عفان ؓ کی اس شادی کے متعلق بعض لغو اور بے ہودہ روایتیں کتابوں میں ہیں، مگر وہ تمام تر جھوٹی ہیں اور محدثین نے موضوعات میں ان کا شمار کیا ہے
حبشہ کی طرف ہجرت
مکہ میں اسلام کی روز افزوں ترقی سے مشرکین قریش کے غیظ وغضب کی آگ روز بروز زیادہ مشتعل ہوتی جاتی تھی، حضرت عثمان بن عفان ؓ بھی اپنی وجاہت اور خاندانی عزت کے باوجود عام بلا کشانِ اسلام کی طرح جفا کاروں کے ظلم و ستم کا نشانہ تھے، ان کو خود ان کے چچا نے باندھ کر مارا، اعزہ و اقارب نے سرد مہری شروع کی اور رفتہ رفتہ ان کی سخت گیری اور جفا کاری یہاں تک بڑھی کہ وہ ان کی برداشت سے باہر ہو گئی اور بالآخر خود آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے اشارہ سے اپنی اہلیہ محترمہ حضرت رقیہ بنت محمد ؓ کو ساتھ لے کر ملک حبش کی طرف روانہ ہو گئے؛چنانچہ یہ پہلا قافلہ تھا جو حق وصداقت کی محبت میں وطن اور اہل وطن کو چھوڑ کر جلاوطن ہوا۔ ہجرت کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کا کچھ حال معلوم نہ ہو سکا اس لیے پریشان خاطر تھے، ایک روز ایک عورت نے خبردی کہ اس نے ان دونوں کو دیکھا تھا اتنا معلوم ہونے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان عثمان اول من ھاجر باھلہ من ھذہ الامۃ،[37] یعنی اس میری امت میں حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ پہلا شخص ہے جو اپنے اہل و عیال کو لے کر ہجرت کی۔ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ اس ملک میں چند سال رہے، اس کے بعد جب بعض اور صحابہ ؓ قریش کے اسلام کی غلط خبر پاکر اپنے وطن واپس آئے تو حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ بھی آگئے، یہاں آکر معلوم ہوا کہ یہ خبر جھوٹی ہے، اس بنا پر بعض صحابہ پھر ملک حبش کی طرف لوٹ گئے، مگر حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ پھر نہ گئے
مدینہ کی طرف ہجرت
اسی اثنا میں مدینہ کی ہجرت کا سامان پیدا ہو گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے تمام اصحاب کو مدینہ کی ہجرت کا ایماء فرمایا، تو حضرت عثمان بن عفان ؓ بھی اپنے اہل و عیال کے ساتھ مدینہ تشریف لے گئے اور حضرت اوس بن ثابت ؓ کے مہمان ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں اور حضرت اوس بن ثابت ؓ میں برادری قائم کر دی۔[42] اس مواخات سے دونوں خاندانوں میں جس قدر محبت اور یگانگت پیدا ہو گئی تھی اس کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ حضرت عثمان بن عفان ؓ کی شہادت پر حضرت حسان بن ثابت ؓ تمام عمر سوگوار رہے اور ان کا نہایت پردرد مرثیہ لکھا۔
No comments:
Post a Comment