5/28/26

بچیوں کی شادی کے لئے سب سے اچھا وظیفہ

 نیک اور صالح رشتے کے حصول اور شادی کی رکاوٹیں دور کرنے کے لیے سورہ تغابن کا وظیفہ انتہائی مجرب اور موثر مانا جاتا ہے۔ اس عمل کی برکت سے اللہ تعالیٰ بند بند راستے کھول دیتے ہیں اور بہترین جیون ساتھی کا سبب بناتے ہیں۔ [1]

 سورہ تغابن کا خاص عمل (طریقہ کار)

اس عمل کو روزانہ عشاء کی نماز کے بعد ایک ہی وقت اور جگہ کا تعین کر کے شروع کریں:
  1. وضو اور لباس: سب سے پہلے تازہ وضو کریں اور پاک صاف جگہ کا انتخاب کریں۔
  2. درود شریف: عمل کے آغاز میں 3 مرتبہ درودِ ابراہیمی پڑھیں۔
  3. تلاوتِ سورہ: اب مکمل توجہ اور یکسوئی کے ساتھ 3 مرتبہ سورہ تغابن کی تلاوت کریں۔
  4. درود شریف: آخر میں دوبارہ 3 مرتبہ درودِ ابراہیمی پڑھیں۔
  5. دعا: تلاوت مکمل کرنے کے بعد نہایت عاجزی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور اپنے لیے یا جن کا رشتہ کرنا ہے، ان کے لیے نیک، صالح اور دیندار شریکِ حیات کی دعا کریں۔
  6. مدت: اس عمل کو بلا ناغہ 11 یا 21 دن تک جاری رکھیں۔ (خواتین ناغہ کے دن بعد میں پورے کریں)۔ [2]

💡 مزید مجرب قرآنی وظائف (جامعہ بنوری ٹاؤن کے مستند فتاویٰ کی روشنی میں)

اگر آپ اس عمل کے ساتھ کچھ اضافی مسنون دعائیں بھی شامل کرنا چاہیں تو درج ذیل معمولات اچھے رشتے کے لیے انتہائی کارآمد ہیں: [3]
  • قرآنی دعا کا کثرت سے ورد:
    چلتے پھرتے، اٹھتے بیٹھتے سورہ قصص کی اس آیت کا کثرت سے ورد کریں، یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعا ہے اور رشتے کے لیے بہت مجرب ہے:
    رَبِّ إِنِّي لِمَا أَنزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ
    (اے میرے رب! تو جو کچھ بھلائی میری طرف اتارے، میں اس کا محتاج ہوں)۔
  • اسمِ الٰہی "یا لطیفُ" کا عمل:
    عشاء کی نماز کے بعد اول و آخر 11 بار درود شریف اور درمیان میں 1100 مرتبہ "يَا لَطِيفُ" پڑھ کر اچھے رشتے کی دعا کریں۔
  • نمازِ حاجت کا اہتمام:
    رات کو سونے سے پہلے دو رکعت صلاۃ الحاجت پڑھیں اور اللہ سے گڑگڑا کر صالح جوڑ کے لیے التجا کریں۔ [3, 4]
اہم نوٹ: وظائف کے ساتھ ساتھ پانچ وقت کی نماز کی پابندی کریں اور اللہ کی ذات پر پورا بھروسہ رکھیں کیونکہ وہی بہترین فیصلے کرنے والا ہے۔
اگر آپ چاہیں تو میں آپ کو سورہ یٰسین کا شادی کے لیے خاص طریقہ یا رشتے کی بندش ختم کرنے کی مخصوص دعائیں بھی بتا سکتا ہوں۔ کیا آپ اس بارے میں مزید جاننا چاہتے ہیں؟

5/26/26

Information About Sahih al-Bukhari | Introduction to Imam Bukhari and the Greatness of Sahih al-Bukhari

صحیح البخاری (جسے عام طور پر بخاری شریف کہا جاتا ہے) اہل سنت و الجماعت کے نزدیک قرآن مجید کے بعد سب سے مستند ترین کتاب مانی جاتی ہے۔ اس عظیم الشان کتاب کو مشہور محدث امام محمد بن اسماعیل البخاری نے تیسری صدی ہجری (تقریباً 846 عیسوی) میں مرتب کیا تھا۔ اس کا اصل عربی نام "الجامع المسند الصحيح المختصر من أمور رسول الله صلى الله عليه وسلم وسننه وأيامه" ہے۔ [1, 2, 3]

بنیادی معلومات اور اہمیت


  • احادیث کی تعداد: اس مجموعے میں تکرار کے ساتھ کل 7,563 احادیث موجود ہیں۔ مکرر احادیث کو ہٹا کر ان کی تعداد تقریباً 2,450 بنتی ہے۔
  • جامع ابواب: کتاب کو 97 ابواب (کتب) میں تقسیم کیا گیا ہے، جن میں عقائد، وحی، نماز، زکوٰۃ، روزہ، حج، نکاح و طلاق، اور روزمرہ کے معاملات شامل ہیں۔
  • کڑا معیار: امام بخاری نے ہر حدیث کو شامل کرنے سے پہلے راویوں کے سچے ہونے، مضبوط حافظے، اور ان کی باہمی ملاقات کے تاریخی ثبوت کا انتہائی سخت معیار قائم کیا۔ [1, 2, 4, 5]

مطالعہ اور ڈاؤن لوڈ کے ذرائع

- ---

اگر آپ اردو، انگریزی یا عربی میں بخاری شریف کا مطالعہ کرنا چاہتے ہیں، تو درج ذیل معتبر پلیٹ فارمز کا استعمال کر سکتے ہیں:

  • آن لائن مطالعہ: آپ Sunnah.com پر عربی متن کے ساتھ مستند انگریزی ترجمہ پڑھ سکتے ہیں۔
  • اردو پی ڈی ایف: مکمل اردو ترجمہ اور جلدیں Internet Archive سے مفت ڈاؤن لوڈ کی جا سکتی ہیں۔
  • موبائل ایپلی کیشنز: اینڈرائیڈ صارفین کے لیے Google Play Store پر سرچ اور بُک مارک فیچرز کے ساتھ بہترین ایپس دستیاب ہیں۔ [1, 6, 7, 8, 9]

کیا آپ بخاری شریف کی پہلی حدیث کا متن جاننا چاہتے ہیں، یا کسی خاص موضوع (جیسے نماز، روزے یا اخلاقیات) سے متعلق احادیث تلاش کر رہے ہیں؟ مجھے بتائیں تاکہ میں مخصوص معلومات فراہم کر سکوں۔

 

[1] https://sunnah.com

[2] https://en.wikipedia.org

[3] https://en.wikishia.net

[4] https://www.amazon.in

[5] https://www.sahih-bukhari.com

[6] https://archive.org

[7] https://play.google.com

[8] https://islamiclabourcode.org

[9] https://www.youtube.com

  

شادی جلدی ہونے کا عجیب و غریب وظیفہ جس نے کیا وہ ہوا کامیاب

 شادی جلدی ہونے کا عجیب و غریب وظیفہ جس نے کیا وہ  ہوا کامیاب

دوستو! ہمارے اردگرد بہت سے ایسے بھائی اور بہنیں ہیں جن کے ابھی تک رشتے نہیں ہوئے۔ اس کی بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ کہیں رکاوٹ ہوتی ہے، کہیں بندش، کسی کو آپ پسند نہیں آتے اور کہیں آپ کو کوئی پسند نہیں آتا۔ اسی طرح رشتے نہ ہونے کی بے شمار وجوہات اور مسائل ہیں۔

- --

یہ مسئلہ ہمارے معاشرے میں ایک وبا کی طرح پھیلتا جا رہا ہے۔ ماں باپ اپنے بچوں اور بچیوں کے رشتوں کی وجہ سے بے حد پریشان رہتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ جلد از جلد انہیں کوئی اچھا رشتہ مل جائے اور وہ اپنی زندگی میں ہی اپنے بچوں کی شادی کا فرض ادا کر دیں۔

اگر آپ یا آپ کے کسی عزیز، بھائی یا بہن کا رشتہ نہیں ہو پا رہا، تو آج میں آپ کو رشتے کے لیے 11 دن کا سورۂ اخلاص کا ایک مبارک وظیفہ بتاؤں گا۔ بہت سے لوگ اسے مجرب اور آزمودہ عمل قرار دیتے ہیں، اور امید رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ آسانی فرماتا ہے۔

یہ وظیفہ کون کر سکتا ہے؟

میرے پیارے بھائیو اور بہنو! جس کا رشتہ نہیں ہو رہا، وہ خود یہ عمل کرے۔ اگر کسی مجبوری کی وجہ سے وہ نہ کر سکے تو اس کی والدہ یا والد بھی یہ عمل کر سکتے ہیں۔ تاہم، بہتر یہی ہے کہ جس کا رشتہ مطلوب ہو، وہ خود یہ عمل کرے۔

عمل کرنے سے پہلے ضروری باتیں

  • خواتین اپنے خاص ایام میں یہ عمل نہیں کر سکتیں۔
  • یہ عمل 11 دن مسلسل کرنا ہوگا۔
  • کسی ایک دن کا ناغہ بھی نہیں ہونا چاہیے، ورنہ عمل دوبارہ شروع کرنا پڑے گا۔
  • یہ عمل فجر سے مغرب کے درمیان کسی بھی وقت کیا جا سکتا ہے۔

مثال کے طور پر، اگر آپ نے ایک دن 12 بجے عمل کیا تو ضروری نہیں کہ اگلے دن بھی اسی وقت کریں۔ فجر سے مغرب کے درمیان کسی بھی وقت کر سکتے ہیں۔

رشتے کے لیے 11 دن کا وظیفہ کرنے کا طریقہ

1.   سب سے پہلے باوضو ہو جائیں اور جائے نماز بچھا لیں۔

2.   ایک پلیٹ یا کسی برتن میں تھوڑی سی چینی رکھ لیں۔

3.   100 دانوں والی تسبیح اپنے دائیں ہاتھ میں پکڑ لیں۔

4.   11 مرتبہ درودِ ابراہیمی پڑھیں۔

5.   اس کے بعد 111 مرتبہ سورۂ اخلاص (بسم اللہ سمیت) پڑھیں:

"قُلْ هُوَ اللّٰهُ أَحَدٌ، اللّٰهُ الصَّمَدُ..."

6.   آخر میں دوبارہ 11 مرتبہ درودِ ابراہیمی پڑھیں۔

7.   پھر اپنے پاس رکھی ہوئی چینی پر دم کر دیں۔

دعا کیسے کرنی ہے؟

اس کے بعد اللہ تعالیٰ سے عاجزی کے ساتھ دعا کریں:

اے اللہ! سنتِ محمدی ﷺ کے مطابق میں بھی اپنا نکاح کرنا چاہتا/چاہتی ہوں۔ اگر میرے رشتے میں کوئی رکاوٹ، بندش یا پریشانی ہے تو اپنے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ کے صدقے میری مشکلات آسان فرما اور میرے لیے اچھا رشتہ مقدر فرما۔

گیارہویں دن کیا کرنا ہے؟

پہلے دن والی چینی کو 11 دن تک اپنے پاس رکھیں اور روزانہ اسی پر دم کریں۔ جب گیارہواں دن آ جائے تو اس چینی سے کوئی میٹھی چیز بنا لیں، جیسے:

  • حلوہ
  • کھیر
  • میٹھے چاول

اسے خود بھی کھائیں اور بچوں یا ضرورت مندوں میں تقسیم بھی کریں۔

اہم بات

دعا اور وظیفہ اللہ تعالیٰ سے امید اور بھروسے کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ اسلام میں اصل زور دعا، صبر اور اللہ پر توکل پر ہے۔ شادی اور رشتے اللہ کی مشیت سے طے ہوتے ہیں، اس لیے اچھے رشتے کے لیے دعا کے ساتھ عملی کوشش، مناسب مشورہ اور مثبت رویہ بھی ضروری ہے۔

اللہ تعالیٰ سب کے لیے آسانیاں پیدا فرمائے اور اچھے رشتے نصیب فرمائے۔ آمین۔

Top of Form

 

Bottom of Form

 

5/25/26

نماز میں اطمینان اور تعدیلِ ارکان کی اہمیت، “جمہور” کا صحیح مطلب — احادیثِ نبوی ﷺ اور علماءِ امت کی روشنی میں اہم بیان

 مفتی محمد زرولی خان کا بیان

نماز جلدی جلدی نہیں، بلکہ اطمینان اور سکون کے ساتھ پڑھنی چاہیے۔ وضو اگرچہ جلدی کر لیا جائے تاکہ پانی کا اسراف نہ ہو، لیکن نماز میں عجلت مناسب نہیں۔ افسوس یہ ہے کہ بعض لوگ وضو کے وقت تو بہت تفصیل میں جاتے ہیں، مگر نماز میں جلدی کرتے ہیں، حالانکہ نماز اللہ تعالیٰ، “احکم الحاکمین” کے ساتھ مناجات ہے۔

. . ...

ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا:
السلام علیکم”۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا:
وعلیک السلام، جا کر دوبارہ نماز پڑھو، کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی۔

وہ شخص دوبارہ نماز پڑھ کر آیا، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا:
جا کر دوبارہ نماز پڑھو، تم نے نماز نہیں پڑھی۔

یہ بات تین مرتبہ ہوئی۔ آخر اس شخص نے عرض کیا:
یا رسول اللہ! مجھے اس سے بہتر نماز پڑھنی نہیں آتی، آپ ہی سکھا دیجیے۔

تب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

جب نماز کے لیے کھڑے ہو تو اللہ اکبر کہو، پھر آسانی سے قرآن پڑھو، پھر اطمینان سے رکوع کرو، پھر اطمینان سے کھڑے ہو جاؤ، پھر اطمینان سے سجدہ کرو، پھر اطمینان سے بیٹھو، اور اسی طرح پوری نماز ادا کرو۔

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نماز صرف ظاہری حرکات کا نام نہیں، بلکہ اس کے ارکان کو سکون اور اطمینان کے ساتھ ادا کرنا ضروری ہے۔ رکوع، قومہ، سجدہ اور جلسہ سب اطمینان کے ساتھ ہونے چاہییں۔

علمائے کرام فرماتے ہیں کہ جتنا وقت رکوع میں گزارا جائے، اتنا ہی وقت قومہ میں بھی گزارنا چاہیے، اور جتنا وقت سجدے میں ہو، اتنا ہی جلسے میں بھی ہونا چاہیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز نہایت کامل اور پرسکون ہوتی تھی۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع سے سر اٹھا کر اتنی دیر کھڑے رہتے کہ ہمیں خیال ہوتا شاید آپ سجدہ کرنا بھول گئے ہیں۔ اسی طرح دو سجدوں کے درمیان اتنی دیر بیٹھتے کہ محسوس ہوتا شاید دوسرا سجدہ بھول گئے ہیں۔

تعدیلِ ارکان کی اہمیت

فقہاء نے اس حدیث سے “تعدیلِ ارکان” یعنی نماز کے ارکان کو اطمینان سے ادا کرنے کی اہمیت بیان کی ہے۔

  • امام شافعیؒ اور امام احمدؒ کے نزدیک تعدیلِ ارکان فرض ہے۔
  • احناف کے نزدیک یہ واجب یا سنتِ مؤکدہ ہے۔

امام ابو جعفر طحاویؒ اسے واجب قرار دیتے ہیں، جبکہ بعض فقہاء اسے سنتِ مؤکدہ کہتے ہیں۔ بہرحال سب کے نزدیک اس کی بہت زیادہ اہمیت ہے، اور جلدی جلدی نماز پڑھنا درست نہیں۔

نماز میں جلدی کرنا خطرناک عادت

آج کل بعض لوگ نماز کو صرف “اٹھک بیٹھک” بنا دیتے ہیں۔ رکوع اور سجدے میں ٹھہراؤ نہیں ہوتا۔ امام جلدی کرے تو مقتدی بھی جلدی کرتے ہیں۔ حالانکہ نماز سکون، خشوع اور اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ کا نام ہے۔

نماز ایسی ہونی چاہیے کہ بندہ ہر رکن کو پوری توجہ اور اطمینان کے ساتھ ادا کرے۔

دین کی باتیں مکمل بیان کرنی چاہییں

بعض لوگ کہتے ہیں کہ صرف فرض اور واجب باتیں بیان کرنی چاہییں، سنتوں یا آداب کی تاکید نہیں کرنی چاہیے۔ یہ بات درست نہیں۔

علمائے کرام فرماتے ہیں کہ جس طرح حلال و حرام کے مسائل بیان کرنا ضروری ہے، اسی طرح سنتیں، آداب اور اسلامی طریقے بھی بیان کرنے چاہییں؛ مثلاً:

  • دائیں ہاتھ سے کھانا،
  • بسم اللہ پڑھ کر کھانا،
  • اپنے سامنے سے کھانا۔

یہ سب سنتیں ہیں اور حدیث شریف میں ان کی تاکید آئی ہے۔

..

جمہور” کا صحیح مطلب

آج کل بعض لوگ “جمہور” کا مطلب صرف “زیادہ لوگ” سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ جمہور سے مراد وہ بڑے اور معتبر علماء ہوتے ہیں جن کے علم کو امت نے قبول کیا ہو۔

اس لیے دین کے مسائل میں صرف اکثریت نہیں، بلکہ معتبر اہلِ علم کی بات دیکھی جاتی ہے۔

اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتے ہیں:

اگر تم زمین میں رہنے والے اکثر لوگوں کی بات مانو گے تو وہ تمہیں اللہ کے راستے سے بھٹکا دیں گے۔

لہٰذا دین میں اصل معیار قرآن، سنت اور معتبر علماء کی رہنمائی ہے، نہ کہ صرف لوگوں کی اکثریت۔

خلاصہ

  • نماز سکون اور اطمینان کے ساتھ ادا کرنی چاہیے۔
  • رکوع، قومہ، سجدہ اور جلسہ میں ٹھہراؤ ضروری ہے۔
  • جلدی جلدی نماز پڑھنا درست نہیں۔
  • سنتوں اور آدابِ دین کی تعلیم بھی ضروری ہے۔
  • دین کے مسائل معتبر علماء سے سیکھنے چاہییں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں خشوع و خضوع کے ساتھ نماز ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

 https://www.youtube.com/watch?v=olkju3dx670


.. ..

5/24/26

شیخ الحدیث والتفسیر علامہ مفتی محمد زرولی خان ؒ -حجِ عرفات، قصرِ نماز اور فقہی اختلافات

 شیخ الحدیث والتفسیر علامہ مفتی محمد زرولی خان ؒ   

حجِ عرفات، قصرِ نماز اور فقہی اختلافات

حجِ قران میں چونکہ عبادات زیادہ اور ذمہ داری بھی زیادہ ہوتی ہے، اس لیے اگر کوئی جنایت یا غلطی ہو جائے تو اس کے احکام بھی سخت ہو جاتے ہیں۔ گویا ثواب بھی زیادہ اور احتیاط کی ضرورت بھی زیادہ ہوتی ہے۔ الحمدللہ اس سفر میں اللہ تعالیٰ نے ہر قسم کی غلطیوں، دم اور جنایات سے محفوظ فرمایا۔

                                      -- --- 

درمیان میں جمعہ کا دن تھا اور ہفتہ کو یومِ ترویہ، یعنی 8 ذوالحجہ، جس دن منیٰ روانگی ہوتی ہے۔ طریقہ یہ ہے کہ جو لوگ قارن ہوں، یعنی حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھ چکے ہوں، یا مفرد ہوں، یعنی صرف حج کا احرام باندھا ہو، یا متمتع ہوں کہ عمرہ ادا کر کے 8 ذوالحجہ کو دوبارہ حج کا احرام باندھیں، سب اسی دن منیٰ کی طرف روانہ ہوتے ہیں۔

منیٰ مکہ مکرمہ سے تقریباً تین میل کے فاصلے پر ہے، اگرچہ اب عمارتیں متصل ہو چکی ہیں اور درمیان میں عزیزیہ کا علاقہ آ جاتا ہے۔ حجاج وہاں پہنچ کر اپنے اپنے خیموں میں ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور فجر کی نمازیں ادا کرتے ہیں۔ اس کا مقصد عرفات کے قریب ہونا ہے، کیونکہ عرفہ حج کا سب سے اہم دن ہے۔ حدیث شریف میں آیا ہے:

الحج عرفۃ

یعنی اصل حج عرفات میں وقوف ہے۔

نو ذوالحجہ کو فجر کے بعد حجاج عرفات کی طرف روانہ ہوتے ہیں اور عموماً ظہر سے پہلے یا ظہر کے قریب وہاں پہنچ جاتے ہیں۔ پھر ظہر اور عصر کی نماز ادا کی جاتی ہے۔

امام اعظم امام ابو حنیفہ کے نزدیک عرفات میں ظہر اور عصر کو جمع کرنے کے لیے چند شرائط ہیں، مثلاً:

    • حاجی محرم ہو
    • حج کا احرام باندھا ہوا ہو
    • منیٰ پہنچ چکا ہو
    • امام کے ساتھ نماز ادا کرے
    • اور امام مسافر ہو

جبکہ امام شافعی اور امام احمد بن حنبل کے نزدیک عرفات میں قصر و جمع مناسکِ حج کی وجہ سے جائز ہے، خواہ امام مقیم ہی کیوں نہ ہو۔ لیکن امام ابو حنیفہ اور امام مالک کے نزدیک قصر کی اصل وجہ سفر ہے، صرف مناسک نہیں۔

اسی اختلاف کی بنا پر بعض فقہائے احناف نے لکھا ہے کہ اگر مقیم امام، مثلاً مکہ مکرمہ کا امام، قصر پڑھائے تو احناف اس کے پیچھے نماز نہ پڑھیں، کیونکہ ان کے نزدیک مقیم شخص کا قصر کرنا درست نہیں۔

اس مسئلے پر اہلِ علم میں کافی بحث رہی ہے۔ بعض علماء نے اس پر تعجب بھی ظاہر کیا کہ جب ہم چاروں مذاہب کو برحق مانتے ہیں تو پھر ایسے مواقع پر دوسرے ائمہ کے قول سے فائدہ کیوں نہ اٹھایا جائے۔

اسی سلسلے میں مولانا یوسف بنوری نے سعودی فرمانروا شاہ فیصل سے درخواست کی تھی کہ عرفات میں حنفی حجاج کے لیے کوئی مسافر امام مقرر کیا جائے تاکہ احناف بھی اطمینان کے ساتھ قصر و جمع کر سکیں۔ روایت ہے کہ کافی عرصے تک اس تجویز پر عمل بھی ہوتا رہا۔

بعض علماء کا موقف یہ ہے کہ احناف اپنے خیموں میں ظہر کی نماز ظہر کے وقت اور عصر کی نماز عصر کے وقت الگ الگ ادا کریں، تاکہ فقہی اختلاف سے بچا جا سکے۔

اصل مقصد یہ ہے کہ عبادت، اتحاد، خشوع اور دعا کا وقت زیادہ سے زیادہ حاصل ہو، کیونکہ عرفات کا دن قبولیتِ دعا کا عظیم موقع ہوتا ہے۔

 - --



مفتی محمد زرولی خان۔حجِ قران کی فضیلت اور اہم مسائل

      حجِ قران کی فضیلت اور اہم مسائل

بسم اللہ الرحمن الرحیم


.. .........

اللہ کے فضل، احسان اور مہربانی سے حرمین شریفین کی حاضری اور مناسکِ حج کی ادائیگی نصیب ہوئی۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ توفیق کا نتیجہ ہے۔ نہ اپنی کوئی بساط ہے اور نہ اب پہلے جیسی صحت و تندرستی باقی رہی، لیکن اللہ تعالیٰ کے خاص فضل و کرم، اور مخلص طلبہ کی دعاؤں کی برکت سے یہ سفر بخیر و عافیت مکمل ہوا۔

کافی عرصے کے بعد دوبارہ حجِ قران کی سعادت نصیب ہوئی۔ اس سے تقریباً پندرہ سال قبل بھی حجِ قران ادا کرنے کا موقع ملا تھا۔ مفسرینِ کرام فرماتے ہیں کہ بعض آیاتِ قرآنیہ میں حجِ قران کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے، کیونکہ حج اور عمرہ ایک ہی احرام کے ساتھ ادا کیے جاتے ہیں۔ قارن عمرہ مکمل کرنے کے بعد حلال نہیں ہوتا بلکہ اسی احرام میں حج جاری رہتا ہے۔

حجِ قران میں اگر کوئی غلطی یا جنایت ہو جائے تو بعض صورتوں میں دم بھی دو لازم ہو سکتے ہیں:
ایک عمرہ کے احرام کی وجہ سے اور دوسرا حج کے احرام کی وجہ سے۔ اسی طرح قارن بعض اعمال بھی دو مرتبہ ادا کرتا ہے، یعنی عمرہ کے لیے الگ طواف و سعی، اور حج کے لیے الگ طواف و سعی۔

امام اعظم امام ابو حنیفہ اور فقہائے عراق کے نزدیک افضل الحج “حجِ قران” ہے، کیونکہ اس میں عبادت اور مشقت دونوں زیادہ ہیں۔

حج کی اقسام میں “تمتع” یہ ہے کہ حاجی پہلے عمرہ ادا کر کے احرام کھول دیتا ہے، پھر ایامِ حج کا انتظار کرتا ہے۔ جب 8 ذوالحجہ، یعنی یومِ ترویہ آتا ہے تو دوبارہ حج کا احرام باندھتا ہے۔ چونکہ اس نے حج سے پہلے عمرہ سے فائدہ اٹھایا ہوتا ہے، اس لیے اسے “متمتع” کہا جاتا ہے۔

افراد” یہ ہے کہ انسان میقات سے صرف حج کا احرام باندھے اور اس سے پہلے عمرہ نہ کیا ہو۔ اگر کسی نے اشہرِ حج میں پہلے عمرہ کر لیا، تو پھر وہ متمتع شمار ہوگا۔

ان مسائل کی تفصیل فقہِ حنفی کی معتبر کتابوں، جیسے “قدوری”، “کنز”، “شرح وقایہ” اور “ہدایہ” میں موجود ہے۔ حنفیہ کی متعدد کتب میں حجِ قران کو افضل قرار دیا گیا ہے۔

مشہور محدث حافظ ابن حجر عسقلانی نے بھی شرحِ بخاری میں اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے حجِ قران ادا فرمایا۔ حالانکہ ان کا اپنا فقہی مسلک اس کے برخلاف ہے، کیونکہ بعض شوافع تمتع کو اور امام مالکؒ افراد کو افضل قرار دیتے ہیں۔

حجِ قران میں چونکہ ایک ہی احرام میں حج اور عمرہ دونوں ادا کیے جاتے ہیں، اس لیے اس میں احتیاط بھی زیادہ ضروری ہے، کیونکہ بعض جنایات کی صورت میں ذمہ داری بھی بڑھ جاتی ہے۔

اس مرتبہ جمعہ کا دن درمیان میں تھا اور ہفتہ کو یومِ ترویہ تھا، جس دن منیٰ کی طرف روانگی ہوئی، اور حج کے مبارک ایام کا آغاز ہوا۔

 

5/19/26

سورۃ اخلاص کی فضیلت۔ شیخ الحدیث مفتی محمد زرولی خان کراچی

 

سورۃ اخلاص کی فضیلت۔ حضرت مولانا مفتی محمد زرولی خان کراچی 

فضیلت سورۃ اخلاص اور واقعات

5/17/26

شیخ الحدیث حضرت مولانا مفتی محمد زرولی خانؒ کا بتایا ہوا وظیفہ

 شیخ الحدیث حضرت مولانا  مفتی محمد زرولی  خانؒ کا بتایا ہوا وظیفہ

دعا، صدقہ اور تہجد کی طاقت     بلا اور بیماری سے نجات کا راستہ

انسان جب بیماری، پریشانی اور مصیبت میں گرفتار ہوتا ہے تو وہ اپنے مذہبی رہنماؤں، علماء اور اللہ والوں کے پاس رجوع کرتا ہے۔ یہ اس کا دینی، اخلاقی اور فطری حق ہے۔ لیکن اصل حقیقت یہ ہے کہ شفا، راحت اور نجات صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔

اللہ تعالیٰ کے سامنے کوئی طاقت غالب نہیں۔ وہی بیماری دیتا ہے اور وہی شفا عطا فرماتا ہے۔ اگر انسان سچے دل سے اپنے رب کی طرف متوجہ ہو جائے تو ناممکن بھی ممکن ہو جاتا ہے۔

بیماری اور اللہ سے تعلق

- ---

ایک شخص سخت پریشانی اور بیماری میں مبتلا تھا۔ ڈاکٹروں نے خطرناک مرض بتایا تھا۔ پوچھا گیا کہ:

کیا تم نے رات کے پچھلے پہر اٹھ کر اللہ کے سامنے دو رکعت نماز پڑھ کر دعا مانگی؟

اس نے جواب دیا:

ایک بار بھی نہیں۔

یہی ہماری بڑی کمزوری ہے۔ ہم مخلوق کے دروازے تو کھٹکھٹاتے ہیں لیکن خالق کے دروازے پر کم جاتے ہیں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے رات کی تنہائی میں مانگنے والوں کے لیے قبولیت کے دروازے کھول رکھے ہیں۔

تہجد اور دعا کی قبولیت

احادیث مبارکہ میں رات کے آخری حصے کی عبادت کی بڑی فضیلت بیان ہوئی ہے۔
صحیح بخاری میں تہجد کی نماز اور وتر کا ذکر موجود ہے۔ انسان جب رات کے آخری پہر وضو کر کے اللہ کے سامنے کھڑا ہوتا ہے تو رحمتِ الٰہی متوجہ ہوتی ہے۔

قرآن کریم میں حضرت یعقوب علیہ السلام کا واقعہ موجود ہے کہ جب ان کے بیٹوں نے معافی مانگی تو فرمایا:

میں تمہارے لیے اپنے رب سے استغفار کروں گا۔

مفسرین نے لکھا کہ آپؑ نے دعا کو سحری کے وقت تک مؤخر فرمایا کیونکہ وہ قبولیت کی گھڑی تھی۔

دعا سے بیماری کا خاتمہ

وہ شخص پندرہ دن بعد واپس آیا اور کہنے لگا:

رپورٹ آ گئی ہے، بیماری ختم ہو گئی۔

یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت ہے۔
وہی ناقص اعضاء میں جان ڈال دیتا ہے، وہی مایوسی کو امید میں بدل دیتا ہے، اور وہی ناممکن حالات کو آسان بنا دیتا ہے۔

صدقہ بلا کو ٹالتا ہے

اسلام میں صدقہ و خیرات کو بہت بڑی اہمیت حاصل ہے۔
ایک روایت کے مطابق:

صدقہ بلا کو ٹال دیتا ہے۔

ہر انسان اپنی حیثیت کے مطابق اللہ کی راہ میں خرچ کرے۔
اگر کسی کے پاس زیادہ مال ہے تو مسجد، مدرسہ یا دینی کاموں میں حصہ لے۔ اور اگر کوئی غریب ہے تو ایک روپیہ، ایک کھجور یا ایک انڈا بھی اخلاص سے دے دے تو اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مصیبتیں دور فرما دیتے ہیں۔

بلا کی دو قسمیں

علماء نے لکھا ہے کہ بلائیں دو طرح کی ہوتی ہیں:

1. اٹل بلا

وہ بلا جس کا فیصلہ قطعی ہو چکا ہو اور جسے ٹالنا مقصود نہ ہو۔

2. معلق بلا

وہ بلا جو دعا، صدقہ، خیرات اور نیک اعمال کی وجہ سے ٹل سکتی ہو۔

جب بلا آسمان سے نازل ہوتی ہے اور بندہ دعا، صدقہ اور عبادت کرتا ہے تو گویا دعا اور بلا کے درمیان مقابلہ ہوتا ہے۔ اگر بندے کی دعا اور نیک اعمال مضبوط ہوں تو اللہ تعالیٰ بلا کو واپس لوٹا دیتے ہیں۔

قبولیتِ دعا کے خاص اوقات

علماء و محدثین نے چند اوقات کو قبولیتِ دعا کے لیے خاص قرار دیا ہے:

  • فرض نمازوں کے بعد
  • اذان کے بعد
  • رات کے آخری پہر
  • سحری کے وقت
  • سجدے کی حالت میں

یہ وہ لمحات ہیں جن میں بندہ اللہ سے مانگے تو رحمت کے دروازے کھل جاتے ہیں۔

اللہ کو راضی کریں

ہر انسان کو چاہیے کہ:

  • نماز کی پابندی کرے
  • تہجد کا اہتمام کرے
  • صدقہ و خیرات کرے
  • دعا اور استغفار کو معمول بنائے
  • اللہ پر کامل یقین رکھے

کیونکہ اصل مدد صرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتی ہے۔

نتیجہ

دنیا کے ڈاکٹر، ہسپتال اور اسباب اپنی جگہ اہم ہیں، مگر شفا کا حقیقی مالک صرف اللہ رب العزت ہے۔ جب بندہ عاجزی، یقین اور اخلاص کے ساتھ اپنے رب کے سامنے جھکتا ہے تو اللہ تعالیٰ ناممکن حالات کو بھی آسان فرما دیتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں دعا، تہجد، صدقہ اور اخلاص کی دولت عطا فرمائے اور ہر قسم کی بلا، بیماری اور پریشانی سے محفوظ فرمائے۔ آمین۔

ویڈیو لنک میں ہے


-- ---

5/16/26

سشیخ الحدیث حضرت مولانا مفتی محمد زرولی خان رحمہ تفسیر سورۃ الکوثر

سورۃ الکوثر کی تفسیر

شیخ الحدیث حضرت مولانا مفتی محمد زرولی خان رحمہ اللہ

۔ سُورۃُ الکَوثر کے اندر بھی تین مسائل ہیں: پہلی آیت میں آنحضرت ﷺ کا مَقام ہے، دوسری آیت میں آنحضرت ﷺ کا پروگرام ہے، اور تیسری آیت میں حضرت ﷺ کے دُشمنوں کا اَنجام ہے۔

اور سُورۃ یوں تقسیم ہو گئی:
بے شک ہم نے دے دیا آپ کو خیرِ کثیر۔ اور بخاری میں ہے: الکوثر نہر ہے، یہ جنت میں ایک نہر ہے۔ اور آپ ﷺ نے فرمایا کہ میرے حوضِ کوثر پر اتنے برتن رکھے ہوئے ہیں پانی پلانے کے لیے، جیسے آسمان میں ستارے بے شمار ہیں، اتنے آپ کے کوزے رکھے ہوئے ہیں، ساری اُمت کو پلایا جائے گا۔ اور فرمایا کہ میرے کوثر کا پانی اس سے زیادہ سفید ہے، اور جس نے ایک دفعہ پی لیا پھر کبھی پیاس نہیں لگے گی۔

اور آپ ﷺ نے فرمایا کہ کوثر مجھے یہیں سے نظر آ رہا ہے، اللہ نے دکھا دیا تھا معراج سے واپسی پر۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں نے اُمِّ سُلیمؓ کو دیکھا کہ حوضِ کوثر پر بیٹھ کر وضو کر رہی ہے، کیونکہ اُس کا بچہ مرا تھا اور اُس نے خاوند کو تسلی دی تھی، تو اللہ نے اُس جنتی کو تسلی کرائی ہے۔

الکوثر یہ کثرت سے ہے، یعنی آپ ﷺ کا علم بھی تمام اَنبیا سے بڑھ کر ہے، آپ ﷺ کے معجزات بھی سب نبیوں سے زیادہ ہیں، آپ ﷺ کی اُمت بھی سب سے زیادہ ہے، آپ ﷺ کے مَراتب اور مَقامات بھی سب سے زیادہ ہیں، آپ ﷺ کا اَجر و ثواب بھی ساری کائنات سے زیادہ ہے۔ ساری اُمت جو قیامت تک اعمال کر رہی ہے، سب حضرت ﷺ کے نامۂ اعمال میں لکھے جا رہے ہیں کیونکہ آپ ﷺ کی وجہ سے۔

حدیث میں ہے، بخاری کتاب الحوض میں ہے جلد ثانی میں، مسلم میں بھی ہے کہ: میں حوضِ کوثر سے کچھ لوگوں کو روکوں گا۔ تو وہ نماز کے آثار سے پہچانے جائیں گے کہ وہ میرے اُمتی ہیں، لیکن مجھ سے کہا جائے گا کہ یہ آپ کی اُمت نہیں ہیں، انہوں نے بدعت کی ہے، تو میں ان کو حوضِ کوثر سے ہٹا دوں گا۔

شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کہتے ہیں کہ حوضِ کوثر حقیقت میں آپ ﷺ کی سُنّت متشکل ہو جائے گی، اس لیے اَہلِ سُنّت رہیں گے اور اَہلِ بدعت وہاں سے نکال دیے جائیں گے۔

دنیا کے تمام اعمال کی اُخروی شکل ہے: نماز ستون کی طرح ہے، زکوٰۃ خزانے کی شکل میں ہے، روزہ ڈھال کی شکل میں ہے۔ فجر کی نماز ابنِ ماجہ میں ہے کہ خوبصورت نوجوان کی شکل میں قبر میں آئے گی اور حساب کتاب میں مدد کرے گی۔

تو آپ ﷺ کی سُنّت ترک کرنے والے اور اُس کے مقابلے میں بدعت نکالنے والوں کو حوضِ کوثر سے منع کیا جائے گا، کیونکہ دنیا میں انہوں نے سُنّت کے درود کے بجائے اپنا درود بنایا، سُنّت دُعاؤں میں اپنے کلمات ڈالے، اپنی طرف سے مردوں کے رسوم، چہلم، برسیوں شروع کر دیں، اپنی طرف سے درگاہوں کو حاجت روا اور مشکل کشا بنایا، اسلامی عقیدۂ توحید کو پارہ پارہ کیا۔

جب انہوں نے دنیا میں اسلام کا حق ادا نہ کیا تو کل وہ اسلام کے پھل کیسے پائیں گے۔ اس لیے آپ ﷺ نے صحیح حدیث میں فرمایا کہ میں بدعتیوں کو حوضِ کوثر سے ہٹا دوں گا۔

بے شک ہم نے دے دیا آپ کو خیرِ کثیر (حوضِ کوثر)، پس آپ نماز پڑھیں اپنے رب کے لیے اور قربانی کریں۔ نماز سے مراد ہے بدنی عبادات اور قربانی سے مراد ہے مالی عبادات، یعنی جان اور مال دونوں اللہ کے لیے خاص کریں۔ یہ ہو گیا پیغمبر ﷺ کا مَقام اور یہ ہو گیا پیغمبر ﷺ کا پروگرام کہ جب تک دنیا میں رہیں نمازیں پڑھیں اور قربانیاں دیں۔

اور بے شک آپ ﷺ کا دُشمن، بدخواہ، وہی دم کٹا ہوگا۔ یہ پیغمبر ﷺ کے دُشمنوں کا اَنجام ہے۔ شان کے معنی ہیں عیب نکالنا، اور دُشمن کو کہتے ہیں بدخواہ، جو انتظار میں ہو کہ آپ ﷺ کا نقصان ہو جائے۔

مشرکین نے اصل میں طعنہ دیا تھا کہ رسول اللہ ﷺ کی بیٹیاں تو زندہ رہیں: زینبؓ، اُمِّ کلثومؓ، رقیہؓ، فاطمہؓ، لیکن بیٹے عبداللہ، قاسم، طاہر، مطہر (یہ نام) مکہ مکرمہ میں حضرت خدیجہؓ کے بطن سے ہوئے اور بچپن میں فوت ہو گئے، تو مشرکین نے طعنہ دیا کہ یہ دین اس شخص تک ہے، یہ گیا تو دین بھی گیا۔

آپ ﷺ کو مقتضائے بشریت کے تحت ملال ہوا، تو اللہ نے تسلی دی کہ ہم نے آپ کو مالا مال کر دیا ہے، بیٹا کیا چیز ہے، ساری دنیا کے بیٹے اور سب آپ ﷺ پر قربان ہوں گے۔ آپ ﷺ کے نام پر صدیوں بعد بھی لوگ اپنے بیٹوں کو قربان کریں گے۔

اور آپ ﷺ نماز اور عبادات میں مشغول رہیں، یہ جو آپ ﷺ کو طعنے دیتے ہیں اور بدخواہی کرتے ہیں، یہ دُشمن ابتر ہوں گے، دم کٹے ہوں گے، جن کا نام لیوا کوئی نہیں ہوگا۔ چنانچہ دنیا میں کافر تو ہیں، لیکن ابو جہل، عتبہ اور ولید کا ماننے والا کوئی نہیں، وہ ابتر ہو گئے۔

اللّٰہُ اَکبر، اللّٰہُ اَکبر، وَلِلّٰہِ الحَمد۔

s ub


  

Featured Post

Is investing in cryptocurrency halal or num What is its status in Islam?

  Is investing in cryptocurrency halal or num What is its status in Islam? Answer Investing in cryptocurrency is haram. The Encyclopedia ...