6/25/26

امام حسین رضی اللہ عنہ کا تعارف

  

حسین بن علی بن ابی طالب ( عربی: ٱلْحُسَيْن ٱبْن عَلِيّ 10 جنوری 623 - 10 اکتوبر 680) محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نواسے اور علی ابن ابی طالب اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی فاطمہ زہرا کے بیٹے تھے۔ وہ اسلام میں ایک اہم شخصیت ہیں کیوں کہ وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے آل میں سے ہیں اور اہل تشیع مکتب فکر میں تیسرے امام بھی سمجھے جاتے ہیں۔ 'حسین بن علی محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چھوٹے نواسے اور علی بن ابی طالب و فاطمہ زہرا کے چھوٹے بیٹے تھے۔ حسین' نام اور ابو عبد اللہ کنیت ہے۔ ان کے بارے میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ حُسَيْنٌ مِنِّي وَأَنَا مِنْ حُسَيْنٍ أَحَبَّ اللَّهُ مَنْ أَحَبَّ حُسَيْنًا حُسَيْنٌ سِبْطٌ مِنْ الْأَسْبَاطِ یعنی 'حسین مجھ سے ہیں اور میں حسین سے ہوں جو حسین سے محبت کرے اللہ اس سے محبت کر۔ حسین میرے الْأَسْبَاطِ میں سے ایک سِبْطٌ ہے'[4] حسین بن علی بن ابی طالب (4-61 ھ) اباعبد اللہ و سید الشہداء کے نام سے مشہور شیعوں کے تیسرے امام ہیں۔ دس سال منصب امامت پر فائز رہے اور واقعہ کربلا میں شہید ہوئے۔ آپ علی ابن ابی طالب اور فاطمہ زہرا کے دوسرے بیٹے اور پیغمبر اکرم ؐ کے نواسے ہیں۔ شیعہ اور اہل سنت تاریخی مصادر کے مطابق پیغمبر خداؐ نے آپؑ کی ولادت کے دوران میں آپ کی شہادت کی خبر دی اور آپ کا نام حسین رکھا۔ رسول اللہ حسن بن علی اور حسین بن علی کو بہت چاہتے تھے اور ان سے محبت رکھنے کی سفارش بھی کرتے تھے۔ امام حسینؑ اصحاب کسا میں سے ہیں، مباہلہ میں بھی حاضر تھے اور اہل بیتِ پیغمبر میں سے ایک بھی ہیں جن کی شان میں آیۂ تطہیر نازل ہوئی ہے۔ امام حسینؑ کی فضیلت میں آنحضرتؐ سے بہت ساری روایات بھی نقل ہوئی ہیں انہی میں سے یہ روایات بھی ہیں؛ «حسن اور حسین جنت کے جوانوں کے سردار ہیں» نیز «حسین چراغ ہدایت اور کشتی نجات ہے۔» [حوالہ درکار] اپنی وفات سے قبل، اموی حکمران معاویہ نے حسن معاویہ معاہدے کے برخلاف اپنے بیٹے یزید کو اپنا جانشین مقرر کیا۔ [5] جب معاویہ 680ء میں فوت ہوئے تو، یزید نے مطالبہ کیا کہ حسین اس کی بیعت کریں۔ حسین نے یزید سے بیعت کرنے سے انکار کر دیا، حالانکہ اس کا مطلب اپنی جان کی قربانی دینا تھا۔ نتیجہ کے طور پر، انھوں نے 60 ہجری میں مکہ مکرمہ میں پناہ لینے کے لیے، اپنے آبائی شہر مدینہ چھوڑ دیا۔ [6] وہاں، کوفہ کے لوگوں نے ان کو خط بھیجا اور بیعت کا وعدہ کیا۔ چنانچہ اپنے رشتہ داروں اور پیروکاروں کے ایک چھوٹے سے قافلے کے ساتھ کچھ سازگار اشارے ملنے کے بعد، کوفہ کی طرف روانہ ہوئے [7] لیکن کربلا کے قریب انھیں یزید کی فوج نے روک لیا۔ یزید نے 10 اکتوبر 680 (10 محرم 61 ہجری) کو، کربلا کی لڑائی میں ان کے بیشتر اہل خانہ اور ساتھیوں سمیت، جس میں حسین کا چھ ماہ کا بیٹا، علی الاصغر، خواتین اور بچوں سمیت قتل کیا گیا تھا اور ان کا سر قلم کر دیا گیا تھا۔ [8][9][10] اسلامی تقویم کے پہلے مہینے محرم کے دوران میں حسین اور اس کے بچوں، کنبہ اور ساتھیوں کی سالانہ یاد منائی جاتی ہے۔ جس دن انھیں شہید کیا گیا عاشورہ (محرم کی دسویں تاریخ، شیعہ مسلمانوں کے سوگ کا دن ) کے نام سے جانا جاتا ہے )۔ حسین علیہ السلام کے اعمال کربلا بعد میں شیعہ تحریکوں کے لیے ایندھن بنے[10] حسین کی زندگی اور شہادت کا وقت انتہائی اہم تھا کیونکہ وہ ساتویں صدی کے سب سے مشکل دور میں تھے۔ اس وقت کے دوران میں، اموی مظالم زور پکڑ گئے تھے اور حسین اور اس کے حواریوں نے جو موقف اختیار کیا، وہ مظالم اور ناانصافیوں کے خلاف آئندہ کی بغاوت کو متاثر کرنے والی مزاحمت کی علامت بن گیا۔ پوری تاریخ میں، نیلسن منڈیلا اور مہاتما گاندھی جیسی متعدد قابل ذکر شخصیات نے ظلم کے خلاف حسین کے موقف کو مثال کے طور پر پیش کیا ہے کہ وہ ناانصافی کے خلاف اپنے لڑائی لڑ رہے ہیں۔ [11] حسین نے اپنی زندگی کے ابتدائی سات سال اپنے نانا، محمد کے ساتھ گزارے۔ محمد کے حوالہ جات نقل کیے گئے ہیں جو حسین اور اس کے بھائی حسن مجتبیٰ میں اپنی دلچسپی ظاہر کرتے ہیں۔ جیسے: "حسن اور حسین جنت کے نوجوانوں کے مالک ہیں۔" حسین کے بچپن کا سب سے اہم واقعہ مباہلہ کی تقریب میں شرکت کرنا اور مباہلہ کی آیت میں "ابناءَنا " کہلائے جانا ہے۔ علی ابن ابی طالب کی خلافت کے دوران میں، حسین اپنے والد کے نقش قدم پر تھے اور جنگوں میں ان کے ساتھ تھے۔ پھر، اس نے معاویہ کے ساتھ اپنے بھائی کے امن معاہدے پر قائم رہا اور معاویہ کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔ تاہم، اس نے معاویہ کی جانب سے اسلام میں صلح نامہ اور مذاہب کے خلاف یزید کو ولی عہد کی حیثیت سے قبول کرنے کی درخواست پر غور کیا اور اسے قبول نہیں کیا۔ 60 ھ میں معاویہ کی موت کے بعد، انھوں نے یزید کے ساتھ بیعت کرنے سے گریز کیا اور اپنے اہل خانہ کے ساتھ مکہ چلے گئے اور چار ماہ تک وہیں مقیم رہے۔ کوفہ کے لوگ ، جو زیادہ تر شیعہ تھے، معاویہ کی موت پر خوش تھے اور انھوں نے حسین کو ایک خط لکھا کہ وہ اب بنی امیہ کی حکومت کو برداشت نہیں کریں گے اور اس سے بیعت کریں گے۔ حسین نے اپنے کزن، مسلم بن عقیل کو بھی، وہاں اس صورت حال کی چھان بین کے لیے بھیجا۔ پھر، کوفہ کے نئے حکمران عبید اللہ ابن زیاد کے اقدامات کے نتیجے میں، لوگ خوفزدہ ہو گئے اور مسلم کو تنہا چھوڑ گئے۔ حسین، کوفہ میں ہونے والے واقعات سے بے خبر، اپنے دوستوں کے ایما پر ذوالحجہ 60ھ میں کوفہ کے لیے روانہ ہوئے، خدا نے وہ کیا کرنا چاہا۔ اس سڑک کے وسط میں، حرف ابن یزید ریاحی کی سربراہی میں کوفہ کی سپاہ نے کوفہ جانے والے قافلے کا راستہ روک لیا اور اس کے نتیجے میں یہ قافلہ اپنے راستے سے ہٹ گیا اور سن 61 ہجری میں محرم کے دوسرے دن کو کربلا پہنچے۔ عمر بن سعد کی کمان میں محرم کے تیسرے دن سے فوجیں کوفہ سے اس علاقے میں داخل ہوگئیں۔ محرم کے دسویں دن کی صبح، عاشورہ، حسین نے اپنی فوج تیار کی اور گھوڑے پر سوار ہوکر ابن سعد کی فوج کو خطبہ دیا اور ان سے اپنا مؤقف بیان کیا۔ لیکن اسے دوبارہ بتایا گیا کہ اسے پہلے یزید کے سامنے ہتھیار ڈالنا ہوں گے۔ اس نے جواب دیا کہ وہ کبھی خود کو غلام کی حیثیت سے سرنڈر نہیں کرے گا۔ یوں، کربلا کی جنگ شروع ہوئی اور دونوں فریقوں کی ایک بڑی تعداد ہلاک ہو گئی۔ دوپہر کے بعد، حسین کی فوج کا بہت محاصرہ کیا گیا۔ اس کے سامنے حسین کے ساتھیوں اور کنبہ کے قتل کے ساتھ، وہ آخر کار تنہا رہ گیا اور اس کے سر اور بازو کو زخمی کر دیا اور اس کے چہرے کے بل زمین پر گر پڑے اور سنان ابن انس نخعی یا شمر بن ذی الجوشن نے ان کا سر کاٹ دیا۔ جنگ ختم ہوئی اور ابن زیاد کے سپاہیوں نے لوٹ مار کی۔ ابن سعد نے میدان جنگ چھوڑنے کے بعد، بنی اسد نے حسین اور دوسرے مقتول کو وہاں دفن کر دیا۔ حسین کا سر، دوسرے بنوہاشم کے سروں کے ساتھ، قیدیوں کے ایک قافلے کے ساتھ کوفہ اور دمشق لے جایا گیا۔ تمام اسلامی مذاہب، بنوامیہ کے حامیوں کے علاوہ، حسین کو محمد کا نواسہ اور صحابی کہتے ہیں۔ شیعہ اسے ایک معصوم امام اور شہید سمجھتے ہیں۔ بہت سارے مسلمان خصوصا شیعہ کربلا کی برسی پر سوگ مناتے ہیں۔ ان کے بقول، حسین کوئی من مانی باغی نہیں تھا جس نے ذاتی مفاد کے لیے اپنی اور اپنے اہل خانہ کی جان قربان کردی۔ انھوں نے معاویہ کے ساتھ معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کی بلکہ یزید سے بیعت کرنے سے انکار کر دیا۔ اپنے والد کی طرح، اس کا بھی ماننا تھا کہ خدا نے اہل بیت کو محمد کی قوم کی رہنمائی کے لیے منتخب کیا ہے۔ اور کوفی خطوط کی آمد کے ساتھ ہی اس نے اپنے چاہنے والوں کے مشورے کے برخلاف، فرض شناسی کا احساس محسوس کیا۔ تاہم، انھوں نے جان بوجھ کر شہادت کی تلاش نہیں کی۔ اور یہ واضح ہونے کے بعد کہ اسے کوفیوں کی حمایت حاصل نہیں ہے، اس نے عراق چھوڑنے کی پیش کش کی۔ مسلم ثقافتوں، خاص طور پر شیعوں کے مشہور ثقافت، فن اور ادب میں، حسین اور اس کے ساتھیوں کی زندگی اور قتل عام کے بارے میں بہت سارے کام ہیں۔۰

 

Ashura عاشورہ

 عاشورا یا یوم عاشورا اسلامی تقویم کے مہینے محرم الحرام کے دسویں دن کو کہا جاتا ہے۔ اس دن شیعہ مسلمانوں کی اکثریت اور کچھ سنی مسلمان پیغمبر اسلام محمد کے نواسے حسین ابن علی کی شہادت کو مختلف طریقوں سے یاد کرتے ہیں۔ شہادت کے واقعہ پر کسی قسم کا اختلاف نہیں پایا جاتا، اہل سنت اور اہل تشیع دونوں متفق ہیں۔ واقعہ کربلا کے تقریباً فوری بعد ہی نوحہ گری شروع ہو گئی تھی۔ واقعہ کربلا کی یاد میں اموی اور عباسی دور میں مشہور مرثیے تحریر کے گئے اور ابتدائی ترین عزاداری سنہ 963ء میں بویہ سلطنت کے دور میں ہوئی۔ افغانستان، ایران، عراق، لبنان، آذربائیجان، بحرین، بھارت اور پاکستان میں اس دن عام تعطیل ہوتی ہے اور کئی دوسری نسلی و مذہبی برادریاں اس دن جلوس میں شریک ہوتی ہیں۔

اہل سنت میں عاشورا نبی موسی کا اپنی قوم کو فرعون سے نجات دلانے کا دن ہے اور یہ اسلامی یوم کپور سے ملتا جلتا ہے۔




6/21/26

سورت رحمان کے فضائل: mufti zarwali khan

آپ ﷺ نے سورۃ رحمن کو جنات کے سامنے پڑھی تو آپ ﷺ نے جب بھی تلاوت فرمائی

فبای آلاء ربکماتکذبان

تو جنات نے کہا لا بشی ء من نعمک ربنا  نکذب   یا اللہ ایک نعمت کی بھی تکذیب نہیں کریں گے

پھرآپ ﷺ نے صحابہ ؓ کے سامنے پڑھی تو وہ خاموش رہے تو آپ ﷺ نے فرمایا تم سے تو جنات اچھے ہیں۔ سلیمان ؑ کے تاج و تخت کی قسم دینے سے بھی بھاگتے ہیں۔

ایک جن نے جب آپ ﷺ کو نماز میں تنگ کرنا شروع کیا تو آپ ﷺ نے پکڑا ۔ آپ ﷺ نے فرمایا

اگر سلیمان ؑ کی دعاء نہ ہوتی تو میں مسجد کی ستون کے ساتھ باندھ دیتا صبح  مدینے کے بچے اس کے ساتھ کھیل لیتے۔

سورت رحمان کے فضائل

حالت حمل میں پڑھنے سے لڑکا پیدا ہوگا اور بہت خوبصورت ہوگا

تمام پریشانیوں اور بیماریوں کا علاج ہے

قیامت کے دن اللہ تبارک وتعالی اس کی تلاوت فرمائیں گے

اقتباس  حضرت مولانا مفتی محمد زرولی خان  رحمہ اللہ 

6/8/26

Ghazwa tabuk

 The Expedition of Tabuk (Arabic: غَزوَة تَبوك; Ghazwat Tabūk), also known as the Campaign of Hardship (Ghazwat al-ʿUsrah), was a military campaign that was initiated by the Islamic prophet Muhammad in October 630 CE (Rajab AH 9), in response to reports of a potential Byzantine invasion of northern Arabia. He led a force of as many as 30,000[1][2] north to Tabuk, near the Gulf of Aqaba, in present-day northwestern Saudi Arabia.[2] Although no direct battle occurred, the campaign was significant for asserting Muslim presence in the region and securing strategic alliances.

Background

After the Muslim victory at the Battle of Hunayn in the aftermath of the conquest of Mecca, the political landscape of Arabia shifted in favour of the emerging First Islamic state. Reports were received by the Prophet Muhammad that the Byzantine Empire,[1] under Emperor Heraclius, was mobilising troops in the Levant, supported by their Arab Christian client tribes such as the Ghassanids.[3]

Historians differ on the accuracy of these reports. According to al-Tabari, it was believed that Heraclius had stationed a large force at Balqa in southern Syria.[4] Some modern scholars, however, suggest that this intelligence may have been exaggerated or even unsubstantiated.[5]

In response, Muhammad called for a mobilisation. The campaign was undertaken during a time of severe heat and drought, testing the resolve of the Muslim community. The Quran refers to this expedition as the Campaign of Hardship,[Quran 9:117] noting the difficulties faced and the initial reluctance of some companions.[6]

The army comprised approximately 30,000 men, including 10,000 cavalry—the largest force yet assembled by the Muslims.[7] Wealthy companions such as Uthman contributed substantial financial and material support. Ibn Hisham records that Uthman equipped one-third of the army and donated 1,000 gold dinars.[8]

The army marched northward over 700 km to Tabuk, near the Gulf of Aqaba, close to the modern border of Saudi Arabia and Jordan in October 630 (Rajab AH 9).[2][9] It was his largest and last military expedition.[2] Ali ibn Abi Talib, who participated in several other expeditions of Muhammad, did not participate in Muhammad's Tabuk expedition upon Muhammad's instructions, as he held command at Medina.[10]

6/5/26

خلیفہ ثالث حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ

خلیفہ ثالث حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ

ابو عبد اللہ عثمان بن عفان اموی قرشی (47 ق ھ - 35 ھ / 576ء656ء)[کے اسلام کے تیسرے خلیفہ، داماد رسول اور جامع قرآن تھے۔ عثمان غنی سابقین اسلام میں شامل اور عشرہ مبشرہ میں سے تھے، ان کی کنیت ذو النورین ہے کیونکہ انھوں نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دو صاحبزادیوں سے نکاح کیا تھا، پہلے رقیہ بنت محمد رضی اللہ عنہا سے کیا، پھر ان کی وفات کے بعد ام کلثوم بنت محمد سے نکاح کیا۔ عثمان غنی پہلے صحابی ہیں جنھوں نے سرزمین حبشہ کی ہجرت کی، بعد میں دیگر صحابہ بھی آپ کے پیچھے حبشہ پہنچے۔ بعد ازاں دوسری ہجرت مدینہ منورہ کی جانب کی۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عثمان غنی پر مکمل اعتماد اور ان کی فطری حیاء و شرافت اور جو انھوں نے اپنے مال کے ذریعہ اہل ایمان کی نصرت کی تھی، اس کی انتہائی قدر کرتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیگر صحابہ کے ساتھ ان کو بھی جنت اور شہادت کی موت کی خوش خبری دی۔[9]

سنہ 23ھ (644ء) میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد مشورہ سے آپ کو خلافت کی ذمہ داری سونپی گئی، جسے انھوں نے 644ء سے 656ء تک انجام دی۔[10] ان کے عہد خلافت میں جمع قرآن مکمل ہوا، مسجد حرام اور مسجد نبوی کی توسیع ہوئی اور قفقاز، خراسان، کرمان، سیستان، افریقیہ اور قبرص وغیرہ فتح ہو کر سلطنت اسلامی میں شامل ہوئے۔ نیز انھوں نے اسلامی ممالک کے ساحلوں کو بازنطینیوں کے حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے اولین مسلم بحری فوج بھی بنائی۔[10][
آپ کا زمانہ خلافت بارہ سال کے عرصہ پر محیط ہے، جس میں آخری کے چھ سالوں میں کچھ ناخوشگوار حادثات پیش آئے، جو بالآخر ان کی شہادت پر منتج ہوئے۔[12] سنہ 35ھ، 18 ذی الحجہ، بروز جمعہ بیاسی سال کی عمر میں انھیں ان کے گھر میں قرآن کریم کی تلاوت کے دوران میں شہید کر دیا گیا اور مدینہ منورہ کے قبرستان جنت البقیع میں دفن ہوئے۔[13] خلیفۂ سوم سیدنا عثمان غنی کا تعلق قریش کے معزز قبیلے سے تھا۔ سلسلۂ نسب عبد المناف پر رسول اللہ ﷺ سے جا ملتا ہے۔ سیدنا عثمان ذوالنورین کی نانی نبی کی پھوپھی تھیں۔ آپ کا نام عثمان اور لقب ” ذوالنورین “ ہے۔ اسلام قبول کرنے والوں میں آپ ” السابقون الاولون “ کی فہرست میں شامل تھے، آپ نے خلیفہ اول سیدنا ابوبکر صدیق کی دعوت پر اسلام قبول کیا تھا۔۔ حضور ﷺ پر ایمان لانے اور کلمہ حق پڑھنے کے جرم میں سیدنا عثمان غنی کو ان کے چچا حکم بن ابی العاص نے لوہے کی زنجیروں سے باندھ کر دھوپ میں ڈال دیا، کئی روز تک علاحدہ مکان میں بند رکھا گیا، چچا نے آپ سے کہا کہ جب تک تم نئے مذہب (اسلام ) کو نہیں چھوڑو گے آزاد نہیں کروں گا۔ یہ سن کر آپ نے جواب میں فرمایا کہ چچا ! اللہ کی قسم میں مذہب اسلام کو کبھی نہیں چھوڑ سکتا اور اس ایمان کی دولت سے کبھی دستبردار نہیں ہوں گا۔ سیدنا عثمان غنی اعلیٰ سیرت و کردار کے ساتھ ثروت و سخاوت میں بھی مشہور تھے۔ رسول اللہ نے فرمایا کہ جنت میں ہر نبی کا ساتھی و رفیق ہوتا ہے میرا ساتھی ”عثمان “ ہوگا۔ سیدنا عثمان کے دائرہ اسلام میں آنے کے بعد نبی اکرم نے کچھ عرصہ بعد اپنی بیٹی سیدہ رقیہ رضى الله عنها کا نکاح آپ سے کر دیا۔ جب کفار مکہ کی اذیتوں سے تنگ آکر مسلمانوں نے نبی کریم کی اجازت اور حکم الٰہی کے مطابق ہجرت حبشہ کی تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بھی مع اپنی اہلیہ حضرت رقیہ رضى اللہ عنہا حبشہ ہجرت فرما گئے، جب حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا تو نبی ﷺ نے دوسری بیٹی حضرت ام کلثوم رضى اللہ عنہا کوآپ کی زوجیت میں دے دی۔ اس طرح آپ کا لقب ” ذوالنورین“ معروف ہوا۔ مدینہ منورہ میں پانی کی قلت تھی جس پر سیدنا عثمان نے نبی پاک ا کی اجازت سے پانی کا کنواں خرید کر مسلمانوں کے ليے وقف فرمایا۔ اور اسی طرح غزوئہ تبوک میں جب رسول اللہ ﷺ نے مالی اعانت کی اپیل فرمائی تو سیدنا عثمان غنی نے تیس ہزار فوج کے ایک تہائی اخراجات کی ذمہ داری لے لی۔ جب رسول اکرم ﷺ نے زیارت خانہ کعبہ کا ارادہ فرمایا تو حدیبیہ کے مقام پر یہ علم ہوا کہ قریش مکہ آمادہ جنگ ہیں۔ اس پر آپ ﷺ نے سیدنا عثمان غنی کو سفیر بنا کر مکہ بھیجا۔ قریش مکہ نے آپ کو روکے رکھا تو افواہ پھیل گئی کہ سیدنا عثمان کو شہید کر دیا گیا ہے۔ اس موقع پر چودہ سو صحابہ سے نبی ﷺ نے بیعت لی کہ سیدنا عثمان غنی کا قصاص لیا جائے گا۔ یہ بیعت تاریخ اسلام میں ” بیعت رضوان “ کے نام سے معروف ہے۔ قریش مکہ کو جب صحیح صورت حال کا علم ہوا تو آمادۂ صلح ہو گئے اور سیدنا عثمان غنی واپس آگئے۔ خلیفہ اول سیدنا ابوبکر صدیق کی مجلس مشاورت کے آپ اہم رکن تھے۔ امیر المومنین سیدنا عمر کی خلافت کا وصیت نامہ آپ نے ہی تحریر فرمایا۔ دینی معاملات پر آپ کی رہنمائی کو پوری اہمیت دی جاتی۔ سیدنا عثمان غنی صرف کاتب وحی ہی نہیں تھے بلکہ قرآن مجید آپ کے سینے میں محفوظ تھا۔ آیات قرآنی کے شان نزول سے خوب واقف تھے۔ بطور تاجر دیانت و امانت آپ کا طرۂ امتیاز تھا۔ نرم خو تھے اور فکر آخرت ہر دم پیش نظر رکھتے تھے۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے عثمان کی حیا سے فرشتے بھی شرماتے ہیں، تبلیغ و اشاعت اسلام کے ليے فراخ دلی سے دولت صرف فرماتے۔ نبی کریم نے فرمایا کہ اے عثمان اللہ تعالٰی تجھے خلافت کی قمیص پہنائیں گے، جب منافق اسے اتارنے کی کوشش کریں تو اسے مت اتارنا یہاں تک کہ تم مجھے آملو۔ چنانچہ جس روز آپ کا محاصرہ کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ مجھ سے حضور نے عہد لیا تھا ( کہ منافق خلافت کی قمیص اتارنے کی کوشش کریں گے تم نہ اتارنا ) اس ليے میں اس پر قائم ہوں اور صبر کر رہا ہوں۔ 35ھ میں ذی قعدہ کے پہلے عشرہ میں باغیوں نے سیدنا عثمان ذوالنورین کے گھر کا محاصرہ کیا اور آپ نے صبر اور استقامت کا دامن نہیں چھوڑا، محاصرہ کے دوران آپ کا کھانا اور پانی بند کر دیا گیا تقریباً چالیس روز بھوکے پیاسے 82 سالہ مظلوم مدینہ سیدنا عثمان کو جمعة المبارک 18ذو الحجہ کو انتہائی بے دردی کے ساتھ 

عثمان غنی کا نسب حسب ذیل ہے

: «عثمان بن عفان بن ابو العاص بن امیہ بن عبد شمس بن عبد مناف بن قصی بن كلاب بن مرہ بن کعب بن لوی بن غالب بن فہر بن فہر بن مالک بن النضر بن کنانہ (اسی کا لقب قریش تھا) بن کنانہ بن خزیمہ بن مدرکہ بن الیاس بن مضر بن نزار بن معد بن عدنان»، عثمان غنی کا نسب عبد مناف بن قصی کے بعد محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نسب سے مل جاتا ہے۔

والدہ: «اروی بنت کریز بن ربیعہ بن حبیہب بن عبد شمس بن عبد مناف بن قصی بن كلاب بن مرہ بن کعب بن لوی بن غالب بن فہر بن مالک بن النضر بن کنانہ بن خزیمہ بن مدرکہ بن الیاس بن مضر بن نزار بن معد بن عدنان»، ان کی والدہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پھوپھی زاد بہن تھیں اور ان کی نانی کا نام بیضاء ام حکیم بنت عبدالمطلب تھا۔،[18][19][20][21] اسی طرح حضرت عثمان ؓ کا سلسلہ پانچویں پشت میں عبد مناف پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مل جاتا ہے، حضرت عثمان ؓ کی نانی بیضا ام الحکیم حضرت عبد اللہ بن عبدالمطلب کی سگی بہن اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی تھیں اس لیے وہ ماں کی طرف سے سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے قریشی رشتہ دار ہیں،[22] آپ کو ذوالنورین (دونوں نوروں والا) اس لیے کہا جاتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دو صاحبزادیاں یکے بعد دیگر ے ان کے نکاح میں آئیں۔ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا خاندان ایام جاہلیت میں غیر معمولی وقعت و اقتدار رکھتا تھا، آپ کے جد اعلیٰ امیہ بن عبد شمس قریش کے رئیسوں میں تھے، خلفائے بنو امیہ اسی امیہ بن عبد شمس کی طرف سے منسوب ہوکر‘‘امویین’’ کے نام سے مشہور ہیں، عقاب یعنی قریش کا قومی علم اسی خاندان کے قبضہ میں تھا، جنگ فجار میں اسی خاندان کا نامور سردار حرب بن امیہ سپہ سالار اعظم کی حیثیت رکھتا تھا، عقبہ بن معیط نے جو اپنے زور اثر اور قوت کے لحاظ سے اسلام کا بہت بڑا دشمن تھا اموی تھا، اسی طرح ابوسفیان بن حرب جنھوں نے قبول اسلام سے پہلے غزوہ بدر کے بعد تمام غزوات میں رئیس قریش کی حیثیت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقابلہ کیا تھا اسی اموی خاندان کے ایک رکن تھے ؛غرض حضرت عثمان بن عفان ؓ کا خاندان شرافت، ریاست اور غزوات کے لحاظ سے عرب میں نہایت ممتاز تھا اور بنو ہاشم کے سوا دوسرا خاندان اس کا ہمسر نہ تھا۔ حضرت عثمان بن عفان ؓ واقعہ فیل کے چھٹے سال یعنی ہجرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے 47 برس قبل پیدا ہوئے، بچپن اور سن رشد کے حالات پردہ خفا میں ہیں ؛لیکن قرآئن سے معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے عام اہل عرب کے خلاف اسی زمانہ میں لکھنا پڑھنا سیکھ لیا تھا، عہد شباب کا آغاز ہوا تو اس تجارتی کاروبار میں مشغول ہوئے اور اپنی صداقت، دیانت اور راست بازی کے باعث غیر معمولی فروغ حاصل کیا۔

اسلام

حضرت عثمان بن عفان ؓ کا چونتیسواں سال تھا کہ مکہ میں توحید کی صدا بلند ہوئی، گو ملکی رسم و رواج اور عرب کے مذہبی تخیل کے لحاظ سے حضرت عثمان ؓ کے لیے یہ آواز نامانوس تھی، تاہم وہ اپنی فطری عفت، پارسائی، دیانتداری اور راستبازی کے باعث اس داعئی حق کو لبیک کہنے کے لیے بالکل تیار تھے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ایمان لائے تو انھوں نے دین مبین کی تبلیغ و اشاعت کو اپنا نصب العین قرار دیا اور اپنے حلقہ احباب میں تلقین وہدایت کا کام شروع کیا، ایام جاہلیت میں ان سے اور حضرت عثمان ؓ سے ارتباط تھا اور اکثر نہایت مخلصانہ صحبت رہتی تھی، ایک روز وہ حسب معمول حضرت ابوبکر صدیق کے پاس آئے اور اسلام کے متعلق گفتگو شروع کی، حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی گفتگو سے آپ اتنے متاثر ہوئے کہ بارگاہ نبوت میں حاضر ہوکر اسلام قبول کرنے پر آمادہ ہو گئے، ابھی دونوں بزرگ جانے کا خیال ہی کر رہے تھے کہ خود سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے اور حضرت عثمان ؓ کو دیکھ کر فرمایا، ‘‘عثمان !خدا کی جنت قبول کر، میں تیری اور تمام خلق کی ہدایت کے لیے مبعوث ہوا ہوں، حضرت عثمان ؓ کا بیان ہے کہ زبان نبوت کے ان سادہ و صاف جملوں میں خدا جانے کیا تاثیر بھری تھی کہ میں بے اختیار کلمہ شہادت پڑھنے لگا اور دست مبارک میں ہاتھ دیکر حلقہ بگوش اسلام ہو گیا۔[28] اس موقع پر یہ نکتہ بھی ذہن نشین رکھنا چاہیے کہ حضرت عثمان بن عفان ؓ کا تعلق اموی خاندان سے تھا جو بنو ہاشم کا حریف تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کامیابی کو اس لیے خوف وحسد کی نگاہ سے دیکھتا تھا کہ اس طریقہ سے عرب کی سیادت کی باگ بنو امیہ کے ہاتھ سے نکل کر بنو ہاشم کے دست اقتدار میں چلی جائے گی، یہی وجہ تھی کہ عقبہ بن ابی معیط اور ابوسفیان وغیرہ اس تحریک کے دبانے میں نہایت سرگرمی سے پیش پیش تھے ؛لیکن حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا آئنہ دل خاندانی تعصب کے گردو غبار سے پاک تھا، اس لیے اس قسم کی کوئی پیش بینی ان کی صفائے باطن کو مکدر نہ کر سکی، انھوں نے نہایت آزادی کے ساتھ اپنے خاندان کے خلاف اس زمانہ میں حق کی آواز پر لبیک کہا جبکہ صرف پینتیس یا چھتیس زن و مرد اس شرف سے مشرف ہوئے تھے۔

شادی

قبول اسلام کے بعد حضرت عثمان بن عفان۔ ؓ کو وہ شرف حاصل ہوا جو ان کی کتاب منقبت کا سب سے درخشاں باب ہے، یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی فرزندی میں قبول فرمایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی منجھلی صاحبزادی رقیہ ؓ کا نکاح پہلے ابو لہب کے بیٹے عتبہ سے ہوا تھا مگر اسلام کے بعد عتبہ کے باپ ابو لہب کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اتنی عداوت ہو گئی تھی کہ اس نے اپنے بیٹے پر دباؤ ڈال کر طلاق دلوادی، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صاحبزادی ممدوحہ کا دوسرا نکاح حضرت عثمان بن عفان ؓ سے کر دیا، حضرت عثمان بن عفان ؓ کی اس شادی کے متعلق بعض لغو اور بے ہودہ روایتیں کتابوں میں ہیں، مگر وہ تمام تر جھوٹی ہیں اور محدثین نے موضوعات میں ان کا شمار کیا ہے

حبشہ کی طرف ہجرت

مکہ میں اسلام کی روز افزوں ترقی سے مشرکین قریش کے غیظ وغضب کی آگ روز بروز زیادہ مشتعل ہوتی جاتی تھی، حضرت عثمان بن عفان ؓ بھی اپنی وجاہت اور خاندانی عزت کے باوجود عام بلا کشانِ اسلام کی طرح جفا کاروں کے ظلم و ستم کا نشانہ تھے، ان کو خود ان کے چچا نے باندھ کر مارا، اعزہ و اقارب نے سرد مہری شروع کی اور رفتہ رفتہ ان کی سخت گیری اور جفا کاری یہاں تک بڑھی کہ وہ ان کی برداشت سے باہر ہو گئی اور بالآخر خود آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے اشارہ سے اپنی اہلیہ محترمہ حضرت رقیہ بنت محمد ؓ کو ساتھ لے کر ملک حبش کی طرف روانہ ہو گئے؛چنانچہ یہ پہلا قافلہ تھا جو حق وصداقت کی محبت میں وطن اور اہل وطن کو چھوڑ کر جلاوطن ہوا۔ ہجرت کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کا کچھ حال معلوم نہ ہو سکا اس لیے پریشان خاطر تھے، ایک روز ایک عورت نے خبردی کہ اس نے ان دونوں کو دیکھا تھا اتنا معلوم ہونے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان عثمان اول من ھاجر باھلہ من ھذہ الامۃ،[37] یعنی اس میری امت میں حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ پہلا شخص ہے جو اپنے اہل و عیال کو لے کر ہجرت کی۔ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ اس ملک میں چند سال رہے، اس کے بعد جب بعض اور صحابہ ؓ قریش کے اسلام کی غلط خبر پاکر اپنے وطن واپس آئے تو حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ بھی آگئے، یہاں آکر معلوم ہوا کہ یہ خبر جھوٹی ہے، اس بنا پر بعض صحابہ پھر ملک حبش کی طرف لوٹ گئے، مگر حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ پھر نہ گئے

مدینہ کی طرف ہجرت

اسی اثنا میں مدینہ کی ہجرت کا سامان پیدا ہو گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے تمام اصحاب کو مدینہ کی ہجرت کا ایماء فرمایا، تو حضرت عثمان بن عفان ؓ بھی اپنے اہل و عیال کے ساتھ مدینہ تشریف لے گئے اور حضرت اوس بن ثابت ؓ کے مہمان ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں اور حضرت اوس بن ثابت ؓ میں برادری قائم کر دی۔[42] اس مواخات سے دونوں خاندانوں میں جس قدر محبت اور یگانگت پیدا ہو گئی تھی اس کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ حضرت عثمان بن عفان ؓ کی شہادت پر حضرت حسان بن ثابت ؓ تمام عمر سوگوار رہے اور ان کا نہایت پردرد مرثیہ لکھا۔



Featured Post

امام حسین رضی اللہ عنہ کا تعارف

    حسین بن علی بن ابی طالب ( عربی: ٱ لْحُسَيْن ٱ بْن عَلِيّ ‎ 10 جنوری 623 - 10 اکتوبر 680 ) محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نواسے او...