6/1/26

غزہ احد کی تفصیل

 جنگ احد 7 شوال 3ھ (23 مارچ 625ء) میں مسلمانوں اور مشرکینِ مکہ کے منظر

ان احد کے پہاڑ کے دامن میں ہوئی۔ مشرکین کے لشکر کی قیادت ابوسفیان کے پاس تھی اور اس نے 3000 سے زائد افراد کے ساتھ مسلمانوں پر حملہ کی ٹھانی تھی جس کی باقاعدہ تیاری کی گئی تھی۔ مسلمانوں کی قیادت حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کی۔ اس جنگ کے نتیجہ کو کسی کی فتح یا شکست نہیں کہا جا سکتا کیونکہ دونوں طرف شدید نقصان ہوا اور کبھی مسلمان غالب آئے اور کبھی مشرکین لیکن آخر میں مشرکین کا لشکر لڑائی ترک کر کے مکہ واپس چلا گیا۔

                                  پس منظر

غزوہ بدر میں مسلمانوں کو شاندار فتح ہوئی تھی۔ اس کے بعد علاقے کی قوتوں بشمول قریشِ مکہ اور یہودیوں کو اندازہ ہوا کہ اب مسلمان ایک معمولی قوت نہیں رہے۔ شکست کھانے کے بعد مشرکینِ مکہ نہایت غصے میں تھے اور نہ صرف اپنی بے عزتی کا بدلہ لینا چاہتے تھے بلکہ ان تجارتی راستوں پر دوبارہ قبضہ کرنا چاہتے تھے جن کی ناکہ بندی مسلمانوں نے غزوہ بدر کے بعد کر دی تھی۔ جنگ کے شعلے بھڑکانے میں ابوسفیان، اس کی بیوی ہندہ اور ایک یہودی کعب الاشرف کے نام نمایاں ہیں۔ ہندہ نے اپنے گھر محفلیں شروع کر دیں جس میں اشعار کی صورت میں جنگ کی ترغیب دی جاتی تھی۔ ابو سفیان نے غزوہ احد سے کچھ پہلے مدینہ کے قریب ایک یہودی قبیلہ کے سردار کے پاس کچھ دن رہائش رکھی تاکہ مدینہ کے حالات سے مکمل آگاہی ہو سکے۔ ابوجہل غزوہ بدر میں مارا گیا تھا جس کے بعد قریش کی سرداری ابوسفیان کے پاس تھی جس کی قیادت میں مکہ کے دارالندوہ میں ایک اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ جنگ کی تیاری کی جائے۔ اس مقصد کے لیے مال و دولت بھی اکٹھاکی گئی۔ جنگ کی بھر پور تیاری کی گئی۔ 3000 سے کچھ زائد سپاہی جن میں سے سات سو زرہ پوش تھے تیار ہو گئے۔ ان کے ساتھ 200 گھوڑے اور 300 اونٹ بھی تیار کیے گئے۔ کچھ عورتیں بھی ساتھ گئیں جو اشعار پڑھ پڑھ کر مشرکین کو جوش دلاتی تھیں۔ ابوسفیان کی بیوی ہندہ نے یہ ارادہ کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چچا حمزہ رَضی اللہُ تعالیٰ عنہُ کا کلیجا چبائے گی چنانچہ اس مقصد کے لیے اس نے حمزہ رَضی اللہُ تعالیٰ عنہُ کے قتل کے لیے اپنے ایک غلام کو خصوصی طور پر تیار کیا۔ بالآخر مارچ 625ء میں یہ فوج مسلمانوں کا مقابلہ کرنے کے لیے روانہ ہو گئی۔ ۔[2][3]

محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چچا عباس نے، جو مکہ ہی میں رہتے تھے، انھیں مشرکین کی اس سازش سے آگاہ کر دیا تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انصار و مہاجرین سے مشورہ کیا کہ شہر میں رہ کر دفاع کیا جائے یا باہر جا کر جنگ لڑی جائے۔ فیصلہ دوسری صورت میں ہوا یعنی باہر نکل کر جنگ لڑی جائے چنانچہ 6 شوال کو نمازِ جمعہ کے بعد حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اصحاب کو استقامت کی تلقین کی اور 1000 کی فوج کے ساتھ مدینہ سے روانہ ہو گئے۔ اشواط کے مقام پر ایک منافق عبد اللہ بن ابی 300 سواروں کے ساتھ جنگ سے علاحدہ دہ ہو گیا اور بہانہ یہ بنایا کہ جنگ شہر کے اندر رہ کر لڑنے کا اس کا مشورہ نہیں مانا گیا۔ ہفتہ 7 شوال 3ھ (23 مارچ 625ء) کو دونوں فوجیں احد کے دامن میں آمنے سامنے آ گئیں۔ احد کا پہاڑ مسلمانوں کی پشت پر تھا۔ وہاں ایک درہ پر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عبد اللہ بن جبیر کی قیادت میں پچاس تیر اندازوں کو مقرر کیا تاکہ دشمن اس راستے سے میدانِ جنگ میں نہ آ سکے۔[3]۔[4]

نتائج

بعض لوگ اس جنگ کو مسلمانوں کی شکست خیال کرتے ہیں اور بعض کے خیال کے مطابق اس کا کوئی ٹھوس نتیجہ نہیں نکلا۔ بہرحال یہ واضح ہو گیا کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ہدایات کو فراموش کرنے یا عسکری نظم و ضبط کو ترک کرنے کا کیا نتیجہ نکل سکتا ہے۔ اگر درہ عینین پر تعینات لوگ درہ نہ چھوڑتے تو مسلمان فتحیاب ہو چکے تھے۔ اس جنگ میں ستر مسلمان شہید ہوئے جبکہ ستائیس مشرکین ہلاک ہوئے۔ مسلمانوں نے اپنے شہداء کو وہیں پر دفن کیا۔

کتابوں کے حوالہ جات

  1. شوکی ابو الخلیل
  2.  السیرۃ النبویۃ از ابن ہشام
  3. تاریخِ طبری جلد دوم
  4.  تاریخ طبری جلد 2 صفحہ 514
  5. السیرۃ النبویۃ از ابن ھشام
  6. السیرۃ النبویۃ از ابن ھشام جلد 2صفحہ 129

غزوہ بدر کی مکمل تفصیل

 غزوہ بدر اسلام کا پہلا اور سب سے اہم معرکہ ہے جو حق و باطل کے درمیان ایک واضح لکیر کھینچنے کی وجہ سے قرآن مجید میں "یومِ فرقان" (فیصلے کا دن) کے نام سے پکارا گیا ہے۔ یہ عظیم جنگ 17 رمضان المبارک 2 ہجری (بمطابق 13 مارچ 624ء) کو مدینہ منورہ سے تقریباً 80 میل دور "بدر" نامی مقام پر لڑی گئی۔ اس معرکے میں مسلمانوں کو اپنی تاریخ کی سب سے پہلی اور سب سے بڑی عسکری فتح حاصل ہوئی۔ [1, 2, 3, 4, 5]

جنگ کے بنیادی اسباب

  • تجارتی قافلہ: قریشِ مکہ کا ایک بڑا تجارتی قافلہ ابو سفیان کی قیادت میں شام سے مکہ واپس جا رہا تھا۔
  • مالی ناکہ بندی: مشرکینِ مکہ مسلمانوں کو مدینہ میں بھی چین سے نہیں رہنے دے رہے تھے، اس لیے ان کی معاشی طاقت کو کمزور کرنا ضروری تھا۔
  • ابو جہل کا تکبر: جب ابو سفیان نے اپنے قافلے کو بچا کر سمندر کے راستے نکال لیا، تب بھی ابو جہل نے مکہ واپس جانے سے انکار کیا اور مسلمانوں کو مٹانے کے ارادے سے بدر کی طرف بڑھا۔ [4, 6, 7]

لشکرو ں کا موازنہ

میدانِ جنگ میں دونوں لشکورں کی عسکری قوت اور وسائل کا تقابل درج ذیل جدول سے واضح ہوتا ہے: [8, 9]
خصوصیات [4, 9] اسلامی لشکر (مسلمان)قریش کا لشکر (کفار)
تعداد313 جنگجو950 سے 1000 جنگجو
گھوڑےصرف 2 گھوڑے100 گھوڑے
اونٹ70 اونٹ700 اونٹ
ہتھیار و زرہیں8 تلواریں اور 6 زرہیںکثیر تعداد اور بہترین آلاتِ حرب

معرکے کے اہم واقعات

  • حضور ﷺ کی دعا: جنگ کی رات رسول اللہ ﷺ نے اللہ کے حضور انتہائی عاجزی سے دعا فرمائی: "اے اللہ! اگر آج یہ مٹھی بھر جماعت ہلاک ہو گئی تو زمین پر پھر کبھی تیری عبادت نہیں کی جائے گی"۔ [7]
  • فرشتوں کی آمد: اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی غیبی مدد فرمائی اور قتال کے لیے ایک ہزار فرشتوں کو نازل کیا۔ [4, 7]
  • مبارزت (آمنے سامنے کا مقابلہ): جنگ کے آغاز میں قریش کے تین بڑے سورما (عتبہ، شیبہ اور ولید) نکلے جنہیں مسلمانوں کے شیروں (حضرت حمزہؓ، حضرت علیؓ اور حضرت عبیدہؓ) نے واصلِ جہنم کیا۔ [7]
  • ابو جہل کا خاتمہ: انصار کے دو کم عمر بھائیوں (حضرت معاذؓ اور حضرت معوذؓ) نے کفر کے سرغنہ ابو جہل پر بھرپور حملہ کر کے اسے ڈھیر کر دیا۔

جنگ کے نتائج اور اثرات

  • مسلمانوں کی شاندار فتح: تعداد اور وسائل کی شدید کمی کے باوجود مسلمانوں نے کفر کے تکبر کو خاک میں ملا دیا۔
  • مشرکین کا نقصان: کفار کے 70 مقتول ہوئے جن میں قریش کے بڑے بڑے سردار شامل تھے، اور 70 قیدی بنا لیے گئے۔
  • مسلمانوں کی قربانی: اس پہلے معرکے میں کل 14 مسلمان (6 مہاجرین اور 8 انصار) نے جامِ شہادت نوش فرمایا۔
  • سیاسی دبدبہ: اس فتح کے بعد جزیرہ نمائے عرب میں اسلام کی ساکھ اور مسلمانوں کا سیاسی و عسکری دبدبہ قائم ہو گیا۔ [4,https://ur.wikipedia.org

5/28/26

بچیوں کی شادی کے لئے سب سے اچھا وظیفہ

 نیک اور صالح رشتے کے حصول اور شادی کی رکاوٹیں دور کرنے کے لیے سورہ تغابن کا وظیفہ انتہائی مجرب اور موثر مانا جاتا ہے۔ اس عمل کی برکت سے اللہ تعالیٰ بند بند راستے کھول دیتے ہیں اور بہترین جیون ساتھی کا سبب بناتے ہیں۔ [1]

 سورہ تغابن کا خاص عمل (طریقہ کار)

اس عمل کو روزانہ عشاء کی نماز کے بعد ایک ہی وقت اور جگہ کا تعین کر کے شروع کریں:
  1. وضو اور لباس: سب سے پہلے تازہ وضو کریں اور پاک صاف جگہ کا انتخاب کریں۔
  2. درود شریف: عمل کے آغاز میں 3 مرتبہ درودِ ابراہیمی پڑھیں۔
  3. تلاوتِ سورہ: اب مکمل توجہ اور یکسوئی کے ساتھ 3 مرتبہ سورہ تغابن کی تلاوت کریں۔
  4. درود شریف: آخر میں دوبارہ 3 مرتبہ درودِ ابراہیمی پڑھیں۔
  5. دعا: تلاوت مکمل کرنے کے بعد نہایت عاجزی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور اپنے لیے یا جن کا رشتہ کرنا ہے، ان کے لیے نیک، صالح اور دیندار شریکِ حیات کی دعا کریں۔
  6. مدت: اس عمل کو بلا ناغہ 11 یا 21 دن تک جاری رکھیں۔ (خواتین ناغہ کے دن بعد میں پورے کریں)۔ [2]

💡 مزید مجرب قرآنی وظائف (جامعہ بنوری ٹاؤن کے مستند فتاویٰ کی روشنی میں)

اگر آپ اس عمل کے ساتھ کچھ اضافی مسنون دعائیں بھی شامل کرنا چاہیں تو درج ذیل معمولات اچھے رشتے کے لیے انتہائی کارآمد ہیں: [3]
  • قرآنی دعا کا کثرت سے ورد:
    چلتے پھرتے، اٹھتے بیٹھتے سورہ قصص کی اس آیت کا کثرت سے ورد کریں، یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعا ہے اور رشتے کے لیے بہت مجرب ہے:
    رَبِّ إِنِّي لِمَا أَنزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ
    (اے میرے رب! تو جو کچھ بھلائی میری طرف اتارے، میں اس کا محتاج ہوں)۔
  • اسمِ الٰہی "یا لطیفُ" کا عمل:
    عشاء کی نماز کے بعد اول و آخر 11 بار درود شریف اور درمیان میں 1100 مرتبہ "يَا لَطِيفُ" پڑھ کر اچھے رشتے کی دعا کریں۔
  • نمازِ حاجت کا اہتمام:
    رات کو سونے سے پہلے دو رکعت صلاۃ الحاجت پڑھیں اور اللہ سے گڑگڑا کر صالح جوڑ کے لیے التجا کریں۔ [3, 4]
اہم نوٹ: وظائف کے ساتھ ساتھ پانچ وقت کی نماز کی پابندی کریں اور اللہ کی ذات پر پورا بھروسہ رکھیں کیونکہ وہی بہترین فیصلے کرنے والا ہے۔
اگر آپ چاہیں تو میں آپ کو سورہ یٰسین کا شادی کے لیے خاص طریقہ یا رشتے کی بندش ختم کرنے کی مخصوص دعائیں بھی بتا سکتا ہوں۔ کیا آپ اس بارے میں مزید جاننا چاہتے ہیں؟

5/26/26

Information About Sahih al-Bukhari | Introduction to Imam Bukhari and the Greatness of Sahih al-Bukhari

صحیح البخاری (جسے عام طور پر بخاری شریف کہا جاتا ہے) اہل سنت و الجماعت کے نزدیک قرآن مجید کے بعد سب سے مستند ترین کتاب مانی جاتی ہے۔ اس عظیم الشان کتاب کو مشہور محدث امام محمد بن اسماعیل البخاری نے تیسری صدی ہجری (تقریباً 846 عیسوی) میں مرتب کیا تھا۔ اس کا اصل عربی نام "الجامع المسند الصحيح المختصر من أمور رسول الله صلى الله عليه وسلم وسننه وأيامه" ہے۔ [1, 2, 3]

بنیادی معلومات اور اہمیت


  • احادیث کی تعداد: اس مجموعے میں تکرار کے ساتھ کل 7,563 احادیث موجود ہیں۔ مکرر احادیث کو ہٹا کر ان کی تعداد تقریباً 2,450 بنتی ہے۔
  • جامع ابواب: کتاب کو 97 ابواب (کتب) میں تقسیم کیا گیا ہے، جن میں عقائد، وحی، نماز، زکوٰۃ، روزہ، حج، نکاح و طلاق، اور روزمرہ کے معاملات شامل ہیں۔
  • کڑا معیار: امام بخاری نے ہر حدیث کو شامل کرنے سے پہلے راویوں کے سچے ہونے، مضبوط حافظے، اور ان کی باہمی ملاقات کے تاریخی ثبوت کا انتہائی سخت معیار قائم کیا۔ [1, 2, 4, 5]

مطالعہ اور ڈاؤن لوڈ کے ذرائع

- ---

اگر آپ اردو، انگریزی یا عربی میں بخاری شریف کا مطالعہ کرنا چاہتے ہیں، تو درج ذیل معتبر پلیٹ فارمز کا استعمال کر سکتے ہیں:

  • آن لائن مطالعہ: آپ Sunnah.com پر عربی متن کے ساتھ مستند انگریزی ترجمہ پڑھ سکتے ہیں۔
  • اردو پی ڈی ایف: مکمل اردو ترجمہ اور جلدیں Internet Archive سے مفت ڈاؤن لوڈ کی جا سکتی ہیں۔
  • موبائل ایپلی کیشنز: اینڈرائیڈ صارفین کے لیے Google Play Store پر سرچ اور بُک مارک فیچرز کے ساتھ بہترین ایپس دستیاب ہیں۔ [1, 6, 7, 8, 9]

کیا آپ بخاری شریف کی پہلی حدیث کا متن جاننا چاہتے ہیں، یا کسی خاص موضوع (جیسے نماز، روزے یا اخلاقیات) سے متعلق احادیث تلاش کر رہے ہیں؟ مجھے بتائیں تاکہ میں مخصوص معلومات فراہم کر سکوں۔

 

[1] https://sunnah.com

[2] https://en.wikipedia.org

[3] https://en.wikishia.net

[4] https://www.amazon.in

[5] https://www.sahih-bukhari.com

[6] https://archive.org

[7] https://play.google.com

[8] https://islamiclabourcode.org

[9] https://www.youtube.com

  

شادی جلدی ہونے کا عجیب و غریب وظیفہ جس نے کیا وہ ہوا کامیاب

 شادی جلدی ہونے کا عجیب و غریب وظیفہ جس نے کیا وہ  ہوا کامیاب

دوستو! ہمارے اردگرد بہت سے ایسے بھائی اور بہنیں ہیں جن کے ابھی تک رشتے نہیں ہوئے۔ اس کی بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ کہیں رکاوٹ ہوتی ہے، کہیں بندش، کسی کو آپ پسند نہیں آتے اور کہیں آپ کو کوئی پسند نہیں آتا۔ اسی طرح رشتے نہ ہونے کی بے شمار وجوہات اور مسائل ہیں۔

- --

یہ مسئلہ ہمارے معاشرے میں ایک وبا کی طرح پھیلتا جا رہا ہے۔ ماں باپ اپنے بچوں اور بچیوں کے رشتوں کی وجہ سے بے حد پریشان رہتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ جلد از جلد انہیں کوئی اچھا رشتہ مل جائے اور وہ اپنی زندگی میں ہی اپنے بچوں کی شادی کا فرض ادا کر دیں۔

اگر آپ یا آپ کے کسی عزیز، بھائی یا بہن کا رشتہ نہیں ہو پا رہا، تو آج میں آپ کو رشتے کے لیے 11 دن کا سورۂ اخلاص کا ایک مبارک وظیفہ بتاؤں گا۔ بہت سے لوگ اسے مجرب اور آزمودہ عمل قرار دیتے ہیں، اور امید رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ آسانی فرماتا ہے۔

یہ وظیفہ کون کر سکتا ہے؟

میرے پیارے بھائیو اور بہنو! جس کا رشتہ نہیں ہو رہا، وہ خود یہ عمل کرے۔ اگر کسی مجبوری کی وجہ سے وہ نہ کر سکے تو اس کی والدہ یا والد بھی یہ عمل کر سکتے ہیں۔ تاہم، بہتر یہی ہے کہ جس کا رشتہ مطلوب ہو، وہ خود یہ عمل کرے۔

عمل کرنے سے پہلے ضروری باتیں

  • خواتین اپنے خاص ایام میں یہ عمل نہیں کر سکتیں۔
  • یہ عمل 11 دن مسلسل کرنا ہوگا۔
  • کسی ایک دن کا ناغہ بھی نہیں ہونا چاہیے، ورنہ عمل دوبارہ شروع کرنا پڑے گا۔
  • یہ عمل فجر سے مغرب کے درمیان کسی بھی وقت کیا جا سکتا ہے۔

مثال کے طور پر، اگر آپ نے ایک دن 12 بجے عمل کیا تو ضروری نہیں کہ اگلے دن بھی اسی وقت کریں۔ فجر سے مغرب کے درمیان کسی بھی وقت کر سکتے ہیں۔

رشتے کے لیے 11 دن کا وظیفہ کرنے کا طریقہ

1.   سب سے پہلے باوضو ہو جائیں اور جائے نماز بچھا لیں۔

2.   ایک پلیٹ یا کسی برتن میں تھوڑی سی چینی رکھ لیں۔

3.   100 دانوں والی تسبیح اپنے دائیں ہاتھ میں پکڑ لیں۔

4.   11 مرتبہ درودِ ابراہیمی پڑھیں۔

5.   اس کے بعد 111 مرتبہ سورۂ اخلاص (بسم اللہ سمیت) پڑھیں:

"قُلْ هُوَ اللّٰهُ أَحَدٌ، اللّٰهُ الصَّمَدُ..."

6.   آخر میں دوبارہ 11 مرتبہ درودِ ابراہیمی پڑھیں۔

7.   پھر اپنے پاس رکھی ہوئی چینی پر دم کر دیں۔

دعا کیسے کرنی ہے؟

اس کے بعد اللہ تعالیٰ سے عاجزی کے ساتھ دعا کریں:

اے اللہ! سنتِ محمدی ﷺ کے مطابق میں بھی اپنا نکاح کرنا چاہتا/چاہتی ہوں۔ اگر میرے رشتے میں کوئی رکاوٹ، بندش یا پریشانی ہے تو اپنے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ کے صدقے میری مشکلات آسان فرما اور میرے لیے اچھا رشتہ مقدر فرما۔

گیارہویں دن کیا کرنا ہے؟

پہلے دن والی چینی کو 11 دن تک اپنے پاس رکھیں اور روزانہ اسی پر دم کریں۔ جب گیارہواں دن آ جائے تو اس چینی سے کوئی میٹھی چیز بنا لیں، جیسے:

  • حلوہ
  • کھیر
  • میٹھے چاول

اسے خود بھی کھائیں اور بچوں یا ضرورت مندوں میں تقسیم بھی کریں۔

اہم بات

دعا اور وظیفہ اللہ تعالیٰ سے امید اور بھروسے کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ اسلام میں اصل زور دعا، صبر اور اللہ پر توکل پر ہے۔ شادی اور رشتے اللہ کی مشیت سے طے ہوتے ہیں، اس لیے اچھے رشتے کے لیے دعا کے ساتھ عملی کوشش، مناسب مشورہ اور مثبت رویہ بھی ضروری ہے۔

اللہ تعالیٰ سب کے لیے آسانیاں پیدا فرمائے اور اچھے رشتے نصیب فرمائے۔ آمین۔

Top of Form

 

Bottom of Form

 

5/25/26

نماز میں اطمینان اور تعدیلِ ارکان کی اہمیت، “جمہور” کا صحیح مطلب — احادیثِ نبوی ﷺ اور علماءِ امت کی روشنی میں اہم بیان

 مفتی محمد زرولی خان کا بیان

نماز جلدی جلدی نہیں، بلکہ اطمینان اور سکون کے ساتھ پڑھنی چاہیے۔ وضو اگرچہ جلدی کر لیا جائے تاکہ پانی کا اسراف نہ ہو، لیکن نماز میں عجلت مناسب نہیں۔ افسوس یہ ہے کہ بعض لوگ وضو کے وقت تو بہت تفصیل میں جاتے ہیں، مگر نماز میں جلدی کرتے ہیں، حالانکہ نماز اللہ تعالیٰ، “احکم الحاکمین” کے ساتھ مناجات ہے۔

. . ...

ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا:
السلام علیکم”۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا:
وعلیک السلام، جا کر دوبارہ نماز پڑھو، کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی۔

وہ شخص دوبارہ نماز پڑھ کر آیا، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا:
جا کر دوبارہ نماز پڑھو، تم نے نماز نہیں پڑھی۔

یہ بات تین مرتبہ ہوئی۔ آخر اس شخص نے عرض کیا:
یا رسول اللہ! مجھے اس سے بہتر نماز پڑھنی نہیں آتی، آپ ہی سکھا دیجیے۔

تب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

جب نماز کے لیے کھڑے ہو تو اللہ اکبر کہو، پھر آسانی سے قرآن پڑھو، پھر اطمینان سے رکوع کرو، پھر اطمینان سے کھڑے ہو جاؤ، پھر اطمینان سے سجدہ کرو، پھر اطمینان سے بیٹھو، اور اسی طرح پوری نماز ادا کرو۔

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نماز صرف ظاہری حرکات کا نام نہیں، بلکہ اس کے ارکان کو سکون اور اطمینان کے ساتھ ادا کرنا ضروری ہے۔ رکوع، قومہ، سجدہ اور جلسہ سب اطمینان کے ساتھ ہونے چاہییں۔

علمائے کرام فرماتے ہیں کہ جتنا وقت رکوع میں گزارا جائے، اتنا ہی وقت قومہ میں بھی گزارنا چاہیے، اور جتنا وقت سجدے میں ہو، اتنا ہی جلسے میں بھی ہونا چاہیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز نہایت کامل اور پرسکون ہوتی تھی۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع سے سر اٹھا کر اتنی دیر کھڑے رہتے کہ ہمیں خیال ہوتا شاید آپ سجدہ کرنا بھول گئے ہیں۔ اسی طرح دو سجدوں کے درمیان اتنی دیر بیٹھتے کہ محسوس ہوتا شاید دوسرا سجدہ بھول گئے ہیں۔

تعدیلِ ارکان کی اہمیت

فقہاء نے اس حدیث سے “تعدیلِ ارکان” یعنی نماز کے ارکان کو اطمینان سے ادا کرنے کی اہمیت بیان کی ہے۔

  • امام شافعیؒ اور امام احمدؒ کے نزدیک تعدیلِ ارکان فرض ہے۔
  • احناف کے نزدیک یہ واجب یا سنتِ مؤکدہ ہے۔

امام ابو جعفر طحاویؒ اسے واجب قرار دیتے ہیں، جبکہ بعض فقہاء اسے سنتِ مؤکدہ کہتے ہیں۔ بہرحال سب کے نزدیک اس کی بہت زیادہ اہمیت ہے، اور جلدی جلدی نماز پڑھنا درست نہیں۔

نماز میں جلدی کرنا خطرناک عادت

آج کل بعض لوگ نماز کو صرف “اٹھک بیٹھک” بنا دیتے ہیں۔ رکوع اور سجدے میں ٹھہراؤ نہیں ہوتا۔ امام جلدی کرے تو مقتدی بھی جلدی کرتے ہیں۔ حالانکہ نماز سکون، خشوع اور اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ کا نام ہے۔

نماز ایسی ہونی چاہیے کہ بندہ ہر رکن کو پوری توجہ اور اطمینان کے ساتھ ادا کرے۔

دین کی باتیں مکمل بیان کرنی چاہییں

بعض لوگ کہتے ہیں کہ صرف فرض اور واجب باتیں بیان کرنی چاہییں، سنتوں یا آداب کی تاکید نہیں کرنی چاہیے۔ یہ بات درست نہیں۔

علمائے کرام فرماتے ہیں کہ جس طرح حلال و حرام کے مسائل بیان کرنا ضروری ہے، اسی طرح سنتیں، آداب اور اسلامی طریقے بھی بیان کرنے چاہییں؛ مثلاً:

  • دائیں ہاتھ سے کھانا،
  • بسم اللہ پڑھ کر کھانا،
  • اپنے سامنے سے کھانا۔

یہ سب سنتیں ہیں اور حدیث شریف میں ان کی تاکید آئی ہے۔

..

جمہور” کا صحیح مطلب

آج کل بعض لوگ “جمہور” کا مطلب صرف “زیادہ لوگ” سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ جمہور سے مراد وہ بڑے اور معتبر علماء ہوتے ہیں جن کے علم کو امت نے قبول کیا ہو۔

اس لیے دین کے مسائل میں صرف اکثریت نہیں، بلکہ معتبر اہلِ علم کی بات دیکھی جاتی ہے۔

اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتے ہیں:

اگر تم زمین میں رہنے والے اکثر لوگوں کی بات مانو گے تو وہ تمہیں اللہ کے راستے سے بھٹکا دیں گے۔

لہٰذا دین میں اصل معیار قرآن، سنت اور معتبر علماء کی رہنمائی ہے، نہ کہ صرف لوگوں کی اکثریت۔

خلاصہ

  • نماز سکون اور اطمینان کے ساتھ ادا کرنی چاہیے۔
  • رکوع، قومہ، سجدہ اور جلسہ میں ٹھہراؤ ضروری ہے۔
  • جلدی جلدی نماز پڑھنا درست نہیں۔
  • سنتوں اور آدابِ دین کی تعلیم بھی ضروری ہے۔
  • دین کے مسائل معتبر علماء سے سیکھنے چاہییں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں خشوع و خضوع کے ساتھ نماز ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

 https://www.youtube.com/watch?v=olkju3dx670


.. ..

5/24/26

شیخ الحدیث والتفسیر علامہ مفتی محمد زرولی خان ؒ -حجِ عرفات، قصرِ نماز اور فقہی اختلافات

 شیخ الحدیث والتفسیر علامہ مفتی محمد زرولی خان ؒ   

حجِ عرفات، قصرِ نماز اور فقہی اختلافات

حجِ قران میں چونکہ عبادات زیادہ اور ذمہ داری بھی زیادہ ہوتی ہے، اس لیے اگر کوئی جنایت یا غلطی ہو جائے تو اس کے احکام بھی سخت ہو جاتے ہیں۔ گویا ثواب بھی زیادہ اور احتیاط کی ضرورت بھی زیادہ ہوتی ہے۔ الحمدللہ اس سفر میں اللہ تعالیٰ نے ہر قسم کی غلطیوں، دم اور جنایات سے محفوظ فرمایا۔

                                      -- --- 

درمیان میں جمعہ کا دن تھا اور ہفتہ کو یومِ ترویہ، یعنی 8 ذوالحجہ، جس دن منیٰ روانگی ہوتی ہے۔ طریقہ یہ ہے کہ جو لوگ قارن ہوں، یعنی حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھ چکے ہوں، یا مفرد ہوں، یعنی صرف حج کا احرام باندھا ہو، یا متمتع ہوں کہ عمرہ ادا کر کے 8 ذوالحجہ کو دوبارہ حج کا احرام باندھیں، سب اسی دن منیٰ کی طرف روانہ ہوتے ہیں۔

منیٰ مکہ مکرمہ سے تقریباً تین میل کے فاصلے پر ہے، اگرچہ اب عمارتیں متصل ہو چکی ہیں اور درمیان میں عزیزیہ کا علاقہ آ جاتا ہے۔ حجاج وہاں پہنچ کر اپنے اپنے خیموں میں ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور فجر کی نمازیں ادا کرتے ہیں۔ اس کا مقصد عرفات کے قریب ہونا ہے، کیونکہ عرفہ حج کا سب سے اہم دن ہے۔ حدیث شریف میں آیا ہے:

الحج عرفۃ

یعنی اصل حج عرفات میں وقوف ہے۔

نو ذوالحجہ کو فجر کے بعد حجاج عرفات کی طرف روانہ ہوتے ہیں اور عموماً ظہر سے پہلے یا ظہر کے قریب وہاں پہنچ جاتے ہیں۔ پھر ظہر اور عصر کی نماز ادا کی جاتی ہے۔

امام اعظم امام ابو حنیفہ کے نزدیک عرفات میں ظہر اور عصر کو جمع کرنے کے لیے چند شرائط ہیں، مثلاً:

    • حاجی محرم ہو
    • حج کا احرام باندھا ہوا ہو
    • منیٰ پہنچ چکا ہو
    • امام کے ساتھ نماز ادا کرے
    • اور امام مسافر ہو

جبکہ امام شافعی اور امام احمد بن حنبل کے نزدیک عرفات میں قصر و جمع مناسکِ حج کی وجہ سے جائز ہے، خواہ امام مقیم ہی کیوں نہ ہو۔ لیکن امام ابو حنیفہ اور امام مالک کے نزدیک قصر کی اصل وجہ سفر ہے، صرف مناسک نہیں۔

اسی اختلاف کی بنا پر بعض فقہائے احناف نے لکھا ہے کہ اگر مقیم امام، مثلاً مکہ مکرمہ کا امام، قصر پڑھائے تو احناف اس کے پیچھے نماز نہ پڑھیں، کیونکہ ان کے نزدیک مقیم شخص کا قصر کرنا درست نہیں۔

اس مسئلے پر اہلِ علم میں کافی بحث رہی ہے۔ بعض علماء نے اس پر تعجب بھی ظاہر کیا کہ جب ہم چاروں مذاہب کو برحق مانتے ہیں تو پھر ایسے مواقع پر دوسرے ائمہ کے قول سے فائدہ کیوں نہ اٹھایا جائے۔

اسی سلسلے میں مولانا یوسف بنوری نے سعودی فرمانروا شاہ فیصل سے درخواست کی تھی کہ عرفات میں حنفی حجاج کے لیے کوئی مسافر امام مقرر کیا جائے تاکہ احناف بھی اطمینان کے ساتھ قصر و جمع کر سکیں۔ روایت ہے کہ کافی عرصے تک اس تجویز پر عمل بھی ہوتا رہا۔

بعض علماء کا موقف یہ ہے کہ احناف اپنے خیموں میں ظہر کی نماز ظہر کے وقت اور عصر کی نماز عصر کے وقت الگ الگ ادا کریں، تاکہ فقہی اختلاف سے بچا جا سکے۔

اصل مقصد یہ ہے کہ عبادت، اتحاد، خشوع اور دعا کا وقت زیادہ سے زیادہ حاصل ہو، کیونکہ عرفات کا دن قبولیتِ دعا کا عظیم موقع ہوتا ہے۔

 - --



Featured Post

امام حسین رضی اللہ عنہ کا تعارف

    حسین بن علی بن ابی طالب ( عربی: ٱ لْحُسَيْن ٱ بْن عَلِيّ ‎ 10 جنوری 623 - 10 اکتوبر 680 ) محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نواسے او...