شیخ الحدیث والتفسیر علامہ مفتی محمد زرولی خان ؒ -حجِ عرفات، قصرِ نماز اور فقہی اختلافات

 شیخ الحدیث والتفسیر علامہ مفتی محمد زرولی خان ؒ   

حجِ عرفات، قصرِ نماز اور فقہی اختلافات

حجِ قران میں چونکہ عبادات زیادہ اور ذمہ داری بھی زیادہ ہوتی ہے، اس لیے اگر کوئی جنایت یا غلطی ہو جائے تو اس کے احکام بھی سخت ہو جاتے ہیں۔ گویا ثواب بھی زیادہ اور احتیاط کی ضرورت بھی زیادہ ہوتی ہے۔ الحمدللہ اس سفر میں اللہ تعالیٰ نے ہر قسم کی غلطیوں، دم اور جنایات سے محفوظ فرمایا۔

                                      -- --- 

درمیان میں جمعہ کا دن تھا اور ہفتہ کو یومِ ترویہ، یعنی 8 ذوالحجہ، جس دن منیٰ روانگی ہوتی ہے۔ طریقہ یہ ہے کہ جو لوگ قارن ہوں، یعنی حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھ چکے ہوں، یا مفرد ہوں، یعنی صرف حج کا احرام باندھا ہو، یا متمتع ہوں کہ عمرہ ادا کر کے 8 ذوالحجہ کو دوبارہ حج کا احرام باندھیں، سب اسی دن منیٰ کی طرف روانہ ہوتے ہیں۔

منیٰ مکہ مکرمہ سے تقریباً تین میل کے فاصلے پر ہے، اگرچہ اب عمارتیں متصل ہو چکی ہیں اور درمیان میں عزیزیہ کا علاقہ آ جاتا ہے۔ حجاج وہاں پہنچ کر اپنے اپنے خیموں میں ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور فجر کی نمازیں ادا کرتے ہیں۔ اس کا مقصد عرفات کے قریب ہونا ہے، کیونکہ عرفہ حج کا سب سے اہم دن ہے۔ حدیث شریف میں آیا ہے:

الحج عرفۃ

یعنی اصل حج عرفات میں وقوف ہے۔

نو ذوالحجہ کو فجر کے بعد حجاج عرفات کی طرف روانہ ہوتے ہیں اور عموماً ظہر سے پہلے یا ظہر کے قریب وہاں پہنچ جاتے ہیں۔ پھر ظہر اور عصر کی نماز ادا کی جاتی ہے۔

امام اعظم امام ابو حنیفہ کے نزدیک عرفات میں ظہر اور عصر کو جمع کرنے کے لیے چند شرائط ہیں، مثلاً:

    • حاجی محرم ہو
    • حج کا احرام باندھا ہوا ہو
    • منیٰ پہنچ چکا ہو
    • امام کے ساتھ نماز ادا کرے
    • اور امام مسافر ہو

جبکہ امام شافعی اور امام احمد بن حنبل کے نزدیک عرفات میں قصر و جمع مناسکِ حج کی وجہ سے جائز ہے، خواہ امام مقیم ہی کیوں نہ ہو۔ لیکن امام ابو حنیفہ اور امام مالک کے نزدیک قصر کی اصل وجہ سفر ہے، صرف مناسک نہیں۔

اسی اختلاف کی بنا پر بعض فقہائے احناف نے لکھا ہے کہ اگر مقیم امام، مثلاً مکہ مکرمہ کا امام، قصر پڑھائے تو احناف اس کے پیچھے نماز نہ پڑھیں، کیونکہ ان کے نزدیک مقیم شخص کا قصر کرنا درست نہیں۔

اس مسئلے پر اہلِ علم میں کافی بحث رہی ہے۔ بعض علماء نے اس پر تعجب بھی ظاہر کیا کہ جب ہم چاروں مذاہب کو برحق مانتے ہیں تو پھر ایسے مواقع پر دوسرے ائمہ کے قول سے فائدہ کیوں نہ اٹھایا جائے۔

اسی سلسلے میں مولانا یوسف بنوری نے سعودی فرمانروا شاہ فیصل سے درخواست کی تھی کہ عرفات میں حنفی حجاج کے لیے کوئی مسافر امام مقرر کیا جائے تاکہ احناف بھی اطمینان کے ساتھ قصر و جمع کر سکیں۔ روایت ہے کہ کافی عرصے تک اس تجویز پر عمل بھی ہوتا رہا۔

بعض علماء کا موقف یہ ہے کہ احناف اپنے خیموں میں ظہر کی نماز ظہر کے وقت اور عصر کی نماز عصر کے وقت الگ الگ ادا کریں، تاکہ فقہی اختلاف سے بچا جا سکے۔

اصل مقصد یہ ہے کہ عبادت، اتحاد، خشوع اور دعا کا وقت زیادہ سے زیادہ حاصل ہو، کیونکہ عرفات کا دن قبولیتِ دعا کا عظیم موقع ہوتا ہے۔

 - --



Comments