نماز میں اطمینان اور تعدیلِ ارکان کی اہمیت، “جمہور” کا صحیح مطلب — احادیثِ نبوی ﷺ اور علماءِ امت کی روشنی میں اہم بیان

 مفتی محمد زرولی خان کا بیان

نماز جلدی جلدی نہیں، بلکہ اطمینان اور سکون کے ساتھ پڑھنی چاہیے۔ وضو اگرچہ جلدی کر لیا جائے تاکہ پانی کا اسراف نہ ہو، لیکن نماز میں عجلت مناسب نہیں۔ افسوس یہ ہے کہ بعض لوگ وضو کے وقت تو بہت تفصیل میں جاتے ہیں، مگر نماز میں جلدی کرتے ہیں، حالانکہ نماز اللہ تعالیٰ، “احکم الحاکمین” کے ساتھ مناجات ہے۔

. . ...

ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا:
السلام علیکم”۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا:
وعلیک السلام، جا کر دوبارہ نماز پڑھو، کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی۔

وہ شخص دوبارہ نماز پڑھ کر آیا، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا:
جا کر دوبارہ نماز پڑھو، تم نے نماز نہیں پڑھی۔

یہ بات تین مرتبہ ہوئی۔ آخر اس شخص نے عرض کیا:
یا رسول اللہ! مجھے اس سے بہتر نماز پڑھنی نہیں آتی، آپ ہی سکھا دیجیے۔

تب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

جب نماز کے لیے کھڑے ہو تو اللہ اکبر کہو، پھر آسانی سے قرآن پڑھو، پھر اطمینان سے رکوع کرو، پھر اطمینان سے کھڑے ہو جاؤ، پھر اطمینان سے سجدہ کرو، پھر اطمینان سے بیٹھو، اور اسی طرح پوری نماز ادا کرو۔

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نماز صرف ظاہری حرکات کا نام نہیں، بلکہ اس کے ارکان کو سکون اور اطمینان کے ساتھ ادا کرنا ضروری ہے۔ رکوع، قومہ، سجدہ اور جلسہ سب اطمینان کے ساتھ ہونے چاہییں۔

علمائے کرام فرماتے ہیں کہ جتنا وقت رکوع میں گزارا جائے، اتنا ہی وقت قومہ میں بھی گزارنا چاہیے، اور جتنا وقت سجدے میں ہو، اتنا ہی جلسے میں بھی ہونا چاہیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز نہایت کامل اور پرسکون ہوتی تھی۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع سے سر اٹھا کر اتنی دیر کھڑے رہتے کہ ہمیں خیال ہوتا شاید آپ سجدہ کرنا بھول گئے ہیں۔ اسی طرح دو سجدوں کے درمیان اتنی دیر بیٹھتے کہ محسوس ہوتا شاید دوسرا سجدہ بھول گئے ہیں۔

تعدیلِ ارکان کی اہمیت

فقہاء نے اس حدیث سے “تعدیلِ ارکان” یعنی نماز کے ارکان کو اطمینان سے ادا کرنے کی اہمیت بیان کی ہے۔

  • امام شافعیؒ اور امام احمدؒ کے نزدیک تعدیلِ ارکان فرض ہے۔
  • احناف کے نزدیک یہ واجب یا سنتِ مؤکدہ ہے۔

امام ابو جعفر طحاویؒ اسے واجب قرار دیتے ہیں، جبکہ بعض فقہاء اسے سنتِ مؤکدہ کہتے ہیں۔ بہرحال سب کے نزدیک اس کی بہت زیادہ اہمیت ہے، اور جلدی جلدی نماز پڑھنا درست نہیں۔

نماز میں جلدی کرنا خطرناک عادت

آج کل بعض لوگ نماز کو صرف “اٹھک بیٹھک” بنا دیتے ہیں۔ رکوع اور سجدے میں ٹھہراؤ نہیں ہوتا۔ امام جلدی کرے تو مقتدی بھی جلدی کرتے ہیں۔ حالانکہ نماز سکون، خشوع اور اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ کا نام ہے۔

نماز ایسی ہونی چاہیے کہ بندہ ہر رکن کو پوری توجہ اور اطمینان کے ساتھ ادا کرے۔

دین کی باتیں مکمل بیان کرنی چاہییں

بعض لوگ کہتے ہیں کہ صرف فرض اور واجب باتیں بیان کرنی چاہییں، سنتوں یا آداب کی تاکید نہیں کرنی چاہیے۔ یہ بات درست نہیں۔

علمائے کرام فرماتے ہیں کہ جس طرح حلال و حرام کے مسائل بیان کرنا ضروری ہے، اسی طرح سنتیں، آداب اور اسلامی طریقے بھی بیان کرنے چاہییں؛ مثلاً:

  • دائیں ہاتھ سے کھانا،
  • بسم اللہ پڑھ کر کھانا،
  • اپنے سامنے سے کھانا۔

یہ سب سنتیں ہیں اور حدیث شریف میں ان کی تاکید آئی ہے۔

..

جمہور” کا صحیح مطلب

آج کل بعض لوگ “جمہور” کا مطلب صرف “زیادہ لوگ” سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ جمہور سے مراد وہ بڑے اور معتبر علماء ہوتے ہیں جن کے علم کو امت نے قبول کیا ہو۔

اس لیے دین کے مسائل میں صرف اکثریت نہیں، بلکہ معتبر اہلِ علم کی بات دیکھی جاتی ہے۔

اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتے ہیں:

اگر تم زمین میں رہنے والے اکثر لوگوں کی بات مانو گے تو وہ تمہیں اللہ کے راستے سے بھٹکا دیں گے۔

لہٰذا دین میں اصل معیار قرآن، سنت اور معتبر علماء کی رہنمائی ہے، نہ کہ صرف لوگوں کی اکثریت۔

خلاصہ

  • نماز سکون اور اطمینان کے ساتھ ادا کرنی چاہیے۔
  • رکوع، قومہ، سجدہ اور جلسہ میں ٹھہراؤ ضروری ہے۔
  • جلدی جلدی نماز پڑھنا درست نہیں۔
  • سنتوں اور آدابِ دین کی تعلیم بھی ضروری ہے۔
  • دین کے مسائل معتبر علماء سے سیکھنے چاہییں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں خشوع و خضوع کے ساتھ نماز ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

 https://www.youtube.com/watch?v=olkju3dx670


.. ..

Comments