شیخ الحدیث حضرت مولانا مفتی محمد زرولی خانؒ کا بتایا ہوا وظیفہ

 شیخ الحدیث حضرت مولانا  مفتی محمد زرولی  خانؒ کا بتایا ہوا وظیفہ

دعا، صدقہ اور تہجد کی طاقت     بلا اور بیماری سے نجات کا راستہ

انسان جب بیماری، پریشانی اور مصیبت میں گرفتار ہوتا ہے تو وہ اپنے مذہبی رہنماؤں، علماء اور اللہ والوں کے پاس رجوع کرتا ہے۔ یہ اس کا دینی، اخلاقی اور فطری حق ہے۔ لیکن اصل حقیقت یہ ہے کہ شفا، راحت اور نجات صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔

اللہ تعالیٰ کے سامنے کوئی طاقت غالب نہیں۔ وہی بیماری دیتا ہے اور وہی شفا عطا فرماتا ہے۔ اگر انسان سچے دل سے اپنے رب کی طرف متوجہ ہو جائے تو ناممکن بھی ممکن ہو جاتا ہے۔

بیماری اور اللہ سے تعلق

- ---

ایک شخص سخت پریشانی اور بیماری میں مبتلا تھا۔ ڈاکٹروں نے خطرناک مرض بتایا تھا۔ پوچھا گیا کہ:

کیا تم نے رات کے پچھلے پہر اٹھ کر اللہ کے سامنے دو رکعت نماز پڑھ کر دعا مانگی؟

اس نے جواب دیا:

ایک بار بھی نہیں۔

یہی ہماری بڑی کمزوری ہے۔ ہم مخلوق کے دروازے تو کھٹکھٹاتے ہیں لیکن خالق کے دروازے پر کم جاتے ہیں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے رات کی تنہائی میں مانگنے والوں کے لیے قبولیت کے دروازے کھول رکھے ہیں۔

تہجد اور دعا کی قبولیت

احادیث مبارکہ میں رات کے آخری حصے کی عبادت کی بڑی فضیلت بیان ہوئی ہے۔
صحیح بخاری میں تہجد کی نماز اور وتر کا ذکر موجود ہے۔ انسان جب رات کے آخری پہر وضو کر کے اللہ کے سامنے کھڑا ہوتا ہے تو رحمتِ الٰہی متوجہ ہوتی ہے۔

قرآن کریم میں حضرت یعقوب علیہ السلام کا واقعہ موجود ہے کہ جب ان کے بیٹوں نے معافی مانگی تو فرمایا:

میں تمہارے لیے اپنے رب سے استغفار کروں گا۔

مفسرین نے لکھا کہ آپؑ نے دعا کو سحری کے وقت تک مؤخر فرمایا کیونکہ وہ قبولیت کی گھڑی تھی۔

دعا سے بیماری کا خاتمہ

وہ شخص پندرہ دن بعد واپس آیا اور کہنے لگا:

رپورٹ آ گئی ہے، بیماری ختم ہو گئی۔

یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت ہے۔
وہی ناقص اعضاء میں جان ڈال دیتا ہے، وہی مایوسی کو امید میں بدل دیتا ہے، اور وہی ناممکن حالات کو آسان بنا دیتا ہے۔

صدقہ بلا کو ٹالتا ہے

اسلام میں صدقہ و خیرات کو بہت بڑی اہمیت حاصل ہے۔
ایک روایت کے مطابق:

صدقہ بلا کو ٹال دیتا ہے۔

ہر انسان اپنی حیثیت کے مطابق اللہ کی راہ میں خرچ کرے۔
اگر کسی کے پاس زیادہ مال ہے تو مسجد، مدرسہ یا دینی کاموں میں حصہ لے۔ اور اگر کوئی غریب ہے تو ایک روپیہ، ایک کھجور یا ایک انڈا بھی اخلاص سے دے دے تو اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مصیبتیں دور فرما دیتے ہیں۔

بلا کی دو قسمیں

علماء نے لکھا ہے کہ بلائیں دو طرح کی ہوتی ہیں:

1. اٹل بلا

وہ بلا جس کا فیصلہ قطعی ہو چکا ہو اور جسے ٹالنا مقصود نہ ہو۔

2. معلق بلا

وہ بلا جو دعا، صدقہ، خیرات اور نیک اعمال کی وجہ سے ٹل سکتی ہو۔

جب بلا آسمان سے نازل ہوتی ہے اور بندہ دعا، صدقہ اور عبادت کرتا ہے تو گویا دعا اور بلا کے درمیان مقابلہ ہوتا ہے۔ اگر بندے کی دعا اور نیک اعمال مضبوط ہوں تو اللہ تعالیٰ بلا کو واپس لوٹا دیتے ہیں۔

قبولیتِ دعا کے خاص اوقات

علماء و محدثین نے چند اوقات کو قبولیتِ دعا کے لیے خاص قرار دیا ہے:

  • فرض نمازوں کے بعد
  • اذان کے بعد
  • رات کے آخری پہر
  • سحری کے وقت
  • سجدے کی حالت میں

یہ وہ لمحات ہیں جن میں بندہ اللہ سے مانگے تو رحمت کے دروازے کھل جاتے ہیں۔

اللہ کو راضی کریں

ہر انسان کو چاہیے کہ:

  • نماز کی پابندی کرے
  • تہجد کا اہتمام کرے
  • صدقہ و خیرات کرے
  • دعا اور استغفار کو معمول بنائے
  • اللہ پر کامل یقین رکھے

کیونکہ اصل مدد صرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتی ہے۔

نتیجہ

دنیا کے ڈاکٹر، ہسپتال اور اسباب اپنی جگہ اہم ہیں، مگر شفا کا حقیقی مالک صرف اللہ رب العزت ہے۔ جب بندہ عاجزی، یقین اور اخلاص کے ساتھ اپنے رب کے سامنے جھکتا ہے تو اللہ تعالیٰ ناممکن حالات کو بھی آسان فرما دیتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں دعا، تہجد، صدقہ اور اخلاص کی دولت عطا فرمائے اور ہر قسم کی بلا، بیماری اور پریشانی سے محفوظ فرمائے۔ آمین۔

ویڈیو لنک میں ہے


-- ---

Comments