سشیخ الحدیث حضرت مولانا مفتی محمد زرولی خان رحمہ تفسیر سورۃ الکوثر
سورۃ
الکوثر کی تفسیر
شیخ
الحدیث حضرت مولانا مفتی محمد زرولی خان رحمہ اللہ
۔ سُورۃُ الکَوثر کے اندر بھی تین
مسائل ہیں: پہلی آیت میں آنحضرت ﷺ کا مَقام ہے، دوسری آیت میں آنحضرت ﷺ کا پروگرام
ہے، اور تیسری آیت میں حضرت ﷺ کے دُشمنوں کا اَنجام ہے۔
اور
سُورۃ یوں تقسیم ہو گئی:
بے شک ہم نے دے دیا آپ کو خیرِ کثیر۔ اور بخاری میں ہے:
الکوثر نہر ہے، یہ جنت میں ایک نہر ہے۔ اور آپ ﷺ نے فرمایا کہ میرے حوضِ کوثر پر
اتنے برتن رکھے ہوئے ہیں پانی پلانے کے لیے، جیسے آسمان میں ستارے بے شمار ہیں،
اتنے آپ کے کوزے رکھے ہوئے ہیں، ساری اُمت کو پلایا جائے گا۔ اور فرمایا کہ میرے
کوثر کا پانی اس سے زیادہ سفید ہے، اور جس نے ایک دفعہ پی لیا پھر کبھی پیاس نہیں
لگے گی۔
اور
آپ ﷺ نے فرمایا کہ کوثر مجھے یہیں سے نظر آ رہا ہے، اللہ نے دکھا دیا تھا معراج سے
واپسی پر۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں نے اُمِّ سُلیمؓ کو دیکھا کہ حوضِ کوثر پر بیٹھ
کر وضو کر رہی ہے، کیونکہ اُس کا بچہ مرا تھا اور اُس نے خاوند کو تسلی دی تھی، تو
اللہ نے اُس جنتی کو تسلی کرائی ہے۔
الکوثر
یہ کثرت سے ہے، یعنی آپ ﷺ کا علم بھی تمام اَنبیا سے بڑھ کر ہے، آپ ﷺ کے معجزات
بھی سب نبیوں سے زیادہ ہیں، آپ ﷺ کی اُمت بھی سب سے زیادہ ہے، آپ ﷺ کے مَراتب اور
مَقامات بھی سب سے زیادہ ہیں، آپ ﷺ کا اَجر و ثواب بھی ساری کائنات سے زیادہ ہے۔
ساری اُمت جو قیامت تک اعمال کر رہی ہے، سب حضرت ﷺ کے نامۂ اعمال میں لکھے جا رہے
ہیں کیونکہ آپ ﷺ کی وجہ سے۔
حدیث
میں ہے، بخاری کتاب الحوض میں ہے جلد ثانی میں، مسلم میں بھی ہے کہ: میں حوضِ کوثر
سے کچھ لوگوں کو روکوں گا۔ تو وہ نماز کے آثار سے پہچانے جائیں گے کہ وہ میرے
اُمتی ہیں، لیکن مجھ سے کہا جائے گا کہ یہ آپ کی اُمت نہیں ہیں، انہوں نے بدعت کی
ہے، تو میں ان کو حوضِ کوثر سے ہٹا دوں گا۔
شاہ
ولی اللہ محدث دہلوی کہتے ہیں کہ حوضِ کوثر حقیقت میں آپ ﷺ کی سُنّت متشکل ہو جائے
گی، اس لیے اَہلِ سُنّت رہیں گے اور اَہلِ بدعت وہاں سے نکال دیے جائیں گے۔
دنیا
کے تمام اعمال کی اُخروی شکل ہے: نماز ستون کی طرح ہے، زکوٰۃ خزانے کی شکل میں ہے،
روزہ ڈھال کی شکل میں ہے۔ فجر کی نماز ابنِ ماجہ میں ہے کہ خوبصورت نوجوان کی شکل
میں قبر میں آئے گی اور حساب کتاب میں مدد کرے گی۔
تو
آپ ﷺ کی سُنّت ترک کرنے والے اور اُس کے مقابلے میں بدعت نکالنے والوں کو حوضِ
کوثر سے منع کیا جائے گا، کیونکہ دنیا میں انہوں نے سُنّت کے درود کے بجائے اپنا
درود بنایا، سُنّت دُعاؤں میں اپنے کلمات ڈالے، اپنی طرف سے مردوں کے رسوم، چہلم،
برسیوں شروع کر دیں، اپنی طرف سے درگاہوں کو حاجت روا اور مشکل کشا بنایا، اسلامی
عقیدۂ توحید کو پارہ پارہ کیا۔
جب
انہوں نے دنیا میں اسلام کا حق ادا نہ کیا تو کل وہ اسلام کے پھل کیسے پائیں گے۔
اس لیے آپ ﷺ نے صحیح حدیث میں فرمایا کہ میں بدعتیوں کو حوضِ کوثر سے ہٹا دوں گا۔
بے
شک ہم نے دے دیا آپ کو خیرِ کثیر (حوضِ کوثر)، پس آپ نماز پڑھیں اپنے رب کے لیے
اور قربانی کریں۔ نماز سے مراد ہے بدنی عبادات اور قربانی سے مراد ہے مالی عبادات،
یعنی جان اور مال دونوں اللہ کے لیے خاص کریں۔ یہ ہو گیا پیغمبر ﷺ کا مَقام اور یہ
ہو گیا پیغمبر ﷺ کا پروگرام کہ جب تک دنیا میں رہیں نمازیں پڑھیں اور قربانیاں
دیں۔
اور
بے شک آپ ﷺ کا دُشمن، بدخواہ، وہی دم کٹا ہوگا۔ یہ پیغمبر ﷺ کے دُشمنوں کا اَنجام
ہے۔ شان کے معنی ہیں عیب نکالنا، اور دُشمن کو کہتے ہیں بدخواہ، جو انتظار میں ہو
کہ آپ ﷺ کا نقصان ہو جائے۔
مشرکین
نے اصل میں طعنہ دیا تھا کہ رسول اللہ ﷺ کی بیٹیاں تو زندہ رہیں: زینبؓ، اُمِّ
کلثومؓ، رقیہؓ، فاطمہؓ، لیکن بیٹے عبداللہ، قاسم، طاہر، مطہر (یہ نام) مکہ مکرمہ
میں حضرت خدیجہؓ کے بطن سے ہوئے اور بچپن میں فوت ہو گئے، تو مشرکین نے طعنہ دیا
کہ یہ دین اس شخص تک ہے، یہ گیا تو دین بھی گیا۔
آپ
ﷺ کو مقتضائے بشریت کے تحت ملال ہوا، تو اللہ نے تسلی دی کہ ہم نے آپ کو مالا مال
کر دیا ہے، بیٹا کیا چیز ہے، ساری دنیا کے بیٹے اور سب آپ ﷺ پر قربان ہوں گے۔ آپ ﷺ
کے نام پر صدیوں بعد بھی لوگ اپنے بیٹوں کو قربان کریں گے۔
اور
آپ ﷺ نماز اور عبادات میں مشغول رہیں، یہ جو آپ ﷺ کو طعنے دیتے ہیں اور بدخواہی
کرتے ہیں، یہ دُشمن ابتر ہوں گے، دم کٹے ہوں گے، جن کا نام لیوا کوئی نہیں ہوگا۔
چنانچہ دنیا میں کافر تو ہیں، لیکن ابو جہل، عتبہ اور ولید کا ماننے والا کوئی
نہیں، وہ ابتر ہو گئے۔
اللّٰہُ اَکبر، اللّٰہُ اَکبر، وَلِلّٰہِ الحَمد۔
s ub
Comments
Post a Comment