مفتی محمد زرولی خان۔حجِ قران کی فضیلت اور اہم مسائل

      حجِ قران کی فضیلت اور اہم مسائل

بسم اللہ الرحمن الرحیم


.. .........

اللہ کے فضل، احسان اور مہربانی سے حرمین شریفین کی حاضری اور مناسکِ حج کی ادائیگی نصیب ہوئی۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ توفیق کا نتیجہ ہے۔ نہ اپنی کوئی بساط ہے اور نہ اب پہلے جیسی صحت و تندرستی باقی رہی، لیکن اللہ تعالیٰ کے خاص فضل و کرم، اور مخلص طلبہ کی دعاؤں کی برکت سے یہ سفر بخیر و عافیت مکمل ہوا۔

کافی عرصے کے بعد دوبارہ حجِ قران کی سعادت نصیب ہوئی۔ اس سے تقریباً پندرہ سال قبل بھی حجِ قران ادا کرنے کا موقع ملا تھا۔ مفسرینِ کرام فرماتے ہیں کہ بعض آیاتِ قرآنیہ میں حجِ قران کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے، کیونکہ حج اور عمرہ ایک ہی احرام کے ساتھ ادا کیے جاتے ہیں۔ قارن عمرہ مکمل کرنے کے بعد حلال نہیں ہوتا بلکہ اسی احرام میں حج جاری رہتا ہے۔

حجِ قران میں اگر کوئی غلطی یا جنایت ہو جائے تو بعض صورتوں میں دم بھی دو لازم ہو سکتے ہیں:
ایک عمرہ کے احرام کی وجہ سے اور دوسرا حج کے احرام کی وجہ سے۔ اسی طرح قارن بعض اعمال بھی دو مرتبہ ادا کرتا ہے، یعنی عمرہ کے لیے الگ طواف و سعی، اور حج کے لیے الگ طواف و سعی۔

امام اعظم امام ابو حنیفہ اور فقہائے عراق کے نزدیک افضل الحج “حجِ قران” ہے، کیونکہ اس میں عبادت اور مشقت دونوں زیادہ ہیں۔

حج کی اقسام میں “تمتع” یہ ہے کہ حاجی پہلے عمرہ ادا کر کے احرام کھول دیتا ہے، پھر ایامِ حج کا انتظار کرتا ہے۔ جب 8 ذوالحجہ، یعنی یومِ ترویہ آتا ہے تو دوبارہ حج کا احرام باندھتا ہے۔ چونکہ اس نے حج سے پہلے عمرہ سے فائدہ اٹھایا ہوتا ہے، اس لیے اسے “متمتع” کہا جاتا ہے۔

افراد” یہ ہے کہ انسان میقات سے صرف حج کا احرام باندھے اور اس سے پہلے عمرہ نہ کیا ہو۔ اگر کسی نے اشہرِ حج میں پہلے عمرہ کر لیا، تو پھر وہ متمتع شمار ہوگا۔

ان مسائل کی تفصیل فقہِ حنفی کی معتبر کتابوں، جیسے “قدوری”، “کنز”، “شرح وقایہ” اور “ہدایہ” میں موجود ہے۔ حنفیہ کی متعدد کتب میں حجِ قران کو افضل قرار دیا گیا ہے۔

مشہور محدث حافظ ابن حجر عسقلانی نے بھی شرحِ بخاری میں اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے حجِ قران ادا فرمایا۔ حالانکہ ان کا اپنا فقہی مسلک اس کے برخلاف ہے، کیونکہ بعض شوافع تمتع کو اور امام مالکؒ افراد کو افضل قرار دیتے ہیں۔

حجِ قران میں چونکہ ایک ہی احرام میں حج اور عمرہ دونوں ادا کیے جاتے ہیں، اس لیے اس میں احتیاط بھی زیادہ ضروری ہے، کیونکہ بعض جنایات کی صورت میں ذمہ داری بھی بڑھ جاتی ہے۔

اس مرتبہ جمعہ کا دن درمیان میں تھا اور ہفتہ کو یومِ ترویہ تھا، جس دن منیٰ کی طرف روانگی ہوئی، اور حج کے مبارک ایام کا آغاز ہوا۔

 

Comments