سورت یٰسین کی فضیلت و برکات شیخ الحدیث حضرت مولانا مفتی محمد زرولی خان ؒ

 سورت یٰسین کی فضیلت و برکات

شیخ الحدیث حضرت مولانا مفتی محمد زرولی خان ؒ

یہ وہ سورت ہے جس کے لیے کہا گیا ہے: “قلبُ القرآن” یعنی قرآن کا دل، سورت یٰسین۔ سورت یٰسین کی فضیلت میں تقریباً 40 احادیث مروی ہیں۔ قرآن کی کس سورت کی فضیلت میں 40 احادیث نہیں ہیں؟ حدیث میں ہے: “اپنے مردوں کو سورت یٰسین پڑھ کر سناؤ۔” جو شخص موت کے قریب ہو، اسے سورت یٰسین پڑھو، اِن شاء اللہ آرام آ جائے گا، اور اگر آرام نہ بھی آئے تو روح بآسانی نکلے گی۔

امام فخرالدین رازی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ مرتے وقت دل فیل ہوتا ہے، اور یٰسین قرآن کا دل ہے، تو اس کے دل کو سہارا مل جائے، اللہ تعالیٰ آسانی فرمائے۔

اللہ! میرا اپنا خیال یہ ہے کہ تین سورتیں اگر مومن کو یاد ہوں تو اس کا بیڑا پار ہو جائے: سورت فاتحہ، سورت اخلاص اور سورت یٰسین۔ پوری زندگی کسی اور چیز کی ضرورت نہیں ہوگی۔ اب میں ویسے کہتا تو نہیں ہوں، لیکن جس دل میں سورت یٰسین نہیں ہوتی، اس میں ایمان لانا خدا کا اپنا فضل ہی ہو، اور وہ طالبِ علم اور عالم تو اس قابل نہیں ہے۔

سورت یٰسین پڑھنے کے بعد ہر شخص مستجاب الدعوات ہو سکتا ہے، اسے مخلوق سے شکایت کا موقع ختم ہو جائے۔ رات کو دعا مانگے گا تو صبح ملے گا، صبح دعا مانگے گا تو ظہر تک ہو جائے گا۔ کاش کہ لوگوں نے اپنی توانائی بے عملی میں ضائع نہ کی ہوتی۔ اتنا بڑا خزانہ، خدا کی قسم! اگر اس سورت کی میں تفسیر کر لوں تو اس رمضان تک پوری نہ ہو، اس لیے میں اس کی تفسیر کرتا ہی نہیں، کر سکتا، ہمت نہیں ہے۔

تمام قرآن جو اب تک آپ نے پڑھا ہے، ابتدائی تین آیتوں میں موجود ہے، اور سارا قرآن جو آگے آ رہا ہے، اس کے بعد دو آیتوں میں موجود ہے۔ گزشتہ آسمانی کتابوں کا سارا علم یٰسین میں ہے۔

کہتے ہیں کہ امام شافعی نے امام محمد سے کہا تھا کہ: “سورت یٰسین پڑھا سکتے ہو؟” امام محمد نے کہا: “پڑھا لوں گا، لیکن 90 اونٹ لانا پڑیں گے۔” یعنی اتنی بڑی تفسیر ہوگی کہ “تسعین” یہ بوجھ پر لدواری پڑے گی۔ بالکل بجا فرمایا ہے، مفسرین نے بڑے عجائب و غرائب لکھے ہیں۔

اللہ تعالیٰ اس سے نزعِ روح میں آسانی کر دیتا ہے۔ تفسیر زاہدی میں لکھا ہے کہ ملک الموت جب کسی کی روح قبض کرنے آتا ہے، اور وہاں سورت یٰسین پڑھی گئی ہو، تو واپس جا کر بارگاہِ الٰہی میں عرض کرتا ہے کہ: “میں اس کی روح کیسے قبض کر لوں؟ وہ سورت یٰسین پڑھ چکا ہے، اور سورت یٰسین کے ایک ایک حرف پر اتنے فرشتے نازل ہو چکے ہیں کہ وہاں موجود ہیں۔

تو اللہ تعالیٰ جنت کے فرشتے رضوان کو بھیج دیتا ہے، اور وہ شخص کے پاس آ کر جنت کے ایک ایک درجے اور نعمت کی خوشخبری دے دیتا ہے کہ جنت بالکل منتظر ہے اور دیر ہو رہی ہے، تو یوں وہ خوش ہو کر روح دے دیتا ہے۔

سورت یٰسین ہر مشکل کے حل کا علاج ہے، اور اس میں تین چار روایتیں ہیں۔ ایک روایت میں ہے کہ ایک دفعہ یٰسین پڑھنا دو قرآن کے برابر ہے۔ دوسری روایت میں ہے کہ جو فجر کے بعد یٰسین پڑھ لے، 10 قرآن کے برابر ہے۔ اور تیسری روایت میں ہے کہ ایک دفعہ سورت یٰسین کی تلاوت 25 دفعہ قرآن کریم پڑھنے کے برابر ہے۔

سورت یٰسین رات کو پڑھنا علیحدہ عمل ہے، اس کی علیحدہ برکات ہیں، جیسے عزت کا تحفظ، رزق کی برکت، مصیبتوں کا ٹل جانا، پریشانیوں کا دور ہونا، مشکلات کا حل ہونا۔ یہ رات کے پڑھنے کا عمل ہے، اور جتنی دیر سے پڑھی جائے، اس قدر مؤثر ہے۔ اور دن کے اندر پڑھنے سے فتوحات ہوتی ہیں، مرادیں ملتی ہیں، آدمی پر کسی کا غلبہ نہیں ہو سکتا۔

مسلمان کے تین اعمال ایسے ہیں کہ اگر ان کا اہتمام کر لے تو چوتھے عمل کی ضرورت نہیں ہے:

1۔ ایک فاتحہ کے ساتھ کسی بھی وقت، 24 گھنٹے میں تین مرتبہ سورت اخلاص پڑھنا۔
2۔ ہر فرض نماز کے بعد، سنتوں کے لیے جگہ بدلتے بدلتے، یا جن نمازوں کے بعد سنن نہیں ہیں، فرائض کے فوراً بعد آیت الکرسی ایک دفعہ پڑھنا۔
3۔ تیسرا عمل سورت یٰسین کا، 24 گھنٹے میں کم از کم ایک بار اس کی مکمل تلاوت کرنا۔ بہتر ہوگا کہ دن کی کسی نماز میں ہو۔

سورت یٰسین میں ایک ہزار قسم کے تجربات ہیں۔ بزرگانِ دین کے ہر تجربہ، جو نص کے خلاف نہیں ہے، معتبر ہے، اور اس پر عقیدت مندوں کو فائدہ پہنچتا ہے۔

ہمارا ایک طریقہ ہے اس کے پڑھنے کا: اپنی دعائیں سفید کاغذ پر لکھ لو، تین دفعہ سورت فاتحہ، تین دفعہ آیت الکرسی، تین دفعہ چار قل، اور تین دفعہ درودِ ابراہیمی پڑھ لو، اور پھر وہ دعا پڑھ لو جو لکھی ہوئی ہے۔ پھر سورت یٰسین شروع کر لیں۔ “مبین” پر پہنچ کر پھر وہ لکھی ہوئی دعا پڑھ لیں، پھر دوسری “مبین” پر، پھر تیسری پر، پھر چوتھی پر، پھر پانچویں پر، پھر چھٹی پر، پھر ساتویں پر۔ سورت یٰسین مکمل ہو جائے تو ہاتھ اٹھا کر تفصیل کے ساتھ وہ دعا مقرر سے مقرر مانگیں۔ سات ہفتے کے اندر اندر، پہلے ہی ہفتے میں کام ہو جائے گا، اِن شاء اللہ۔


A A

سب کو اجازت ہے۔ جنہوں نے سمجھا نہیں ہے، ان کو بالکل اجازت نہیں۔ جو سمجھ چکے ہیں، ان کو ہے۔ نا سمجھ تو حقیقت میں دشمنیِ کتاب و سنت ہے۔ اس کو وظیفہ دینا تو خنزیر کے گلے میں موتیوں کا ہار ڈالنا ہے، جو بدترین قسم کی ناشکری ہے۔ سب سے بدترین کائنات وہی ہے کہ جب قیمتی بات ہو تو وہ توجہ ہی نہ دے۔

 اس وظیفے کا ویڈیو لنک میں ہے

وظhttps://www.youtube.com/watch?v=kJL3LK8-kqo&t=586sفہ

Comments