کن
لوگوں سے خواب کی تعبیر پوچھنا منع ہے
حضرت
امام جعفر صادق رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں چار قسم کے لوگوں سے تعبیر مت پوچھا
کریں نمبر ایک بے دین لوگوں سے جو شریعت کے پابند نہیں ہیں کیونکہ تعبیر خواب نیک
اور بابرکت لوگوں سے پوچھنی چاہیے اور بے دین لوگ خدا کی نافرمانی کے باعث راندے
درگاہ ہوتے ہیں ان میں خیر اور برکت کہاں
نمبر
دو عورتوں سے کیوں کی تعبیر خواب میں بڑی عقل اور سمجھدار درکار ہے اور یہ ظاہر ہے
کہ عورتیں ناقص العقل ہوتی ہے اس لیے شریعت محمدی میں دو عورتوں کی گواہی ایک مرد
کی گواہی کے قائم مقام رکھی گئی ہے
نمبر تین جاہلوں سے جو علم دینی بخوبی واقف نہ ہو دنیاوی علوم سے خواہ وہ
ولایت پاز ہی کیوں نہ ہو کیونکہ پہلے مذکور ہو چکا ہے کہ علم تفسیر اور قران کا
جاننا لازمی ہے
دشمنوں سے تعبیر نہیں پوچھنا
چاہیے کیونکہ دشمن بھی خیر اور برکت سے خالی ہوتے ہیں نیز ان سے یہ بھی اندیشہ ہے
کہ وہ خواب کی تعبیر بری بتا دیں اور یہ ظاہر ہے کہ خواب کی تعبیر جیسی بتائی جائے
گی ویسے ہی واقع ہو جاتی ہے چنانچہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے وہ قضی الامر الذی فی
فیہ تفتیان
یوسف
علیہ الصلوۃ والسلام جیل میں فرماتے ہیں کہ یہ میرے جیل کے دونوں رفیق ہو جس جس
بات کی تم نے مجھ سے تعبیر پوچھی وہ میری تعبیر کے مطابق ہی بحکم خدا واقع ہو جائے
گی اس لیے تعبیر نہیں پوچھنا چاہیے ہر کسی سے
No comments:
Post a Comment