9/27/26

محبوب کو حاصر کرنے کا عمل اوروظیفہ

 محبوب کو اپنے قدموں میں حاضر کرنے کا آسان عمل ہے۔‏ عاملین اکثر ایک عاملین ظائف بتاتے ہیں ہیں لیکن۔‏ کئ وظائف سرے سے ہی ناجائز یعنی شرکیہ ہوتے ہیں بعض وظائف تو جادو  کے قریب تر ہوتے ہیں یا جادو ہوتے ہیں ان کا کرنا گناہ تو ہے ہی بسا اوقات ایمان بھی ہاتھ سے چلا جات ہے کیونہ اس میں منتر یا تنتر ہوتا ہے جس میں شیاطین سے استعانت مانگی جاتی ہے۔‏ جب بھی کوئ وظیفہ پڑھو قران یا حدیث کے مطابق پڑھو تو کامیاب ہوں گے۔‏

یاد رکھنا محبوب کو حاضر کرنے کا عمل ہی جائز نہیں ہے۔‏  یہ عمل صرف جائز مقصد میں کیا جا سکتا ہے۔‏ مثلا بھائ بھئ سے ناراض ہیں۔‏ یا میاں بیوی کو طلاق دینے والا ہے یا میاں کا کسی کے ساتھ چکر ہے اور اپنی بیوی سے دور   دور رہتا ہے محبت نہیں کرتا اس کے لئے میری طرف سے اجازت ہے اس کے علاوہ نہ کرے

وظیفہ ہے ہے

اول و ٖخر 41مرتبہ درود پڑھیں درمیان میں  ایک بار سورۃ یس شریف پڑھیں ہر مبین پر ٖکر دعا مانگیں یا اللہ فلاں کا دل فلاں کے لئیے نرم فرما۔‏ یہ عمل 7 دن کریں

انشاء اللہ سات دن میں کام ہوجائیگا

9/17/26

سقوط اندلساندلس میں مسلمانوں کے 800 سالہ اقتدار کے خاتمے کی اہم وجوہات

 اندلس (موجودہ اسپین اور پرتگال) میں مسلمانوں کا 800 سالہ اقتدار کسی ایک واقعے کے باعث ختم نہیں ہوا، بلکہ یہ صدیوں پر محیط اندرونی کمزوریوں اور بیرونی حملوں کا نتیجہ تھا۔

1492ء میں سقوطِ غرناطہ کے ساتھ ہی اندلس سے مسلم حکومت کا مکتمل خاتمہ ہو گیا۔ اس زوال کی اہم ترین وجوہات درج ذیل ہیں:

1۔ اندرونی خلفشار اور طوائف الملوکی

خلافتِ قرطبہ کے خاتمے کے بعد مسلمان چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں بٹ گئے، جنہیں "ملوک الطوائف" کہا جاتا ہے۔ یہ ریاستیں مرکزیت کھو بیٹھیں اور متحد ہونے کے بجائے ایک دوسرے کے خلاف لڑنے لگیں۔ حتیٰ کہ بعض مسلم حکمرانوں نے اپنے ہی مسلم بھائیوں کے خلاف عیسائی بادشاہوں سے مدد لی۔

2۔ عیسائی ریاستوں کا اتحاد (Reconquista)

جب مسلمان آپس میں لڑ رہے تھے، تو دوسری طرف شمال کی عیسائی ریاستیں (جیسے کاسٹیل اور اراگون) مسلمانوں کو نکالنے کے لیے متحد ہو رہی تھیں۔ 1469ء میں ملکہ ازابیلا اور بادشاہ فرڈینینڈ کی شادی نے دو بڑی عیسائی طاقتوں کو ایک کر دیا، جس نے مسلمانوں کے آخری گڑھ (غرناطہ) پر حملے کی راہ ہموار کی۔

3۔ عسکری اور تکنیکی پسپائی

وقت کے ساتھ ساتھ اندلس کے مسلمان عیش و عشرت میں پڑ گئے اور اپنی فوجی طاقت اور دفاعی حکمتِ عملی کو جدید نہ بنا سکے۔ اس کے برعکس، عیسائی افواج نے اپنی جنگی تکنیک کو بہتر کیا اور پے در پے مسلم علاقوں پر قبضے کرتے گئے۔

4۔ بیرونی مسلم دنیا سے کٹ جانا

جب اندلس پر عیسائیوں کے حملے بڑھے، تو انہیں مراکش کے مرابطین اور موحدین جیسے مسلم خاندانوں سے عارضی مدد تو ملی، لیکن بعد میں اندرونی مسائل کی وجہ سے شمالی افریقہ یا سلطنتِ عثمانیہ سے کوئی بڑی اور مستقل فوجی امداد نہ پہنچ سکی۔

5۔ آخری سقوط (1492ء)

اندلس کی آخری مسلم ریاست غرناطہ کے امیر ابو عبداللہ (بوآبڈل) نے طویل محاصرے اور اندرونی سازشوں کے بعد ہتھیار ڈال دیے۔ انہوں نے فرڈینینڈ اور ازابیلا کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت غرناطہ کی چابیاں عیسائیوں کے حوالے کر دیں، جس کے بعد اندلس پر مسلمانوں کی سیاسی طاقت کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہو گیا۔

 


9/13/26

حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی شادی

 

حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی شادی اسلامی تاریخ کا ایک انتہائی مبارک اور یادگار واقعہ ہے۔ یہ شادی سادگی، قناعت اور اسلامی اصولوں کی ایک بہترین مثال ہے، جو قیامت تک آنے والے مسلمانوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔

نکاح اور مہر کا انتظام

یہ مبارک رشتہ ہجرت کے دوسرے سال (2 ہجری) میں مدینہ منورہ میں طے پایا۔ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضور اکرم ﷺ کی بارگاہ میں سیدہ فاطمہ کا ہاتھ مانگا، تو آپ ﷺ نے مسرت کا اظہار فرمایا۔ نبی کریم ﷺ نے حضرت علی سے مہر کے بارے میں دریافت کیا۔ حضرت علی کے پاس اس وقت نقد رقم موجود نہیں تھی۔ آپ ﷺ کے مشورے پر، حضرت علی نے اپنی حطمی زرہ (جنگی لباس) تقریباً 400 سے 500 درہم چاندی میں فروخت کی اور وہ رقم بطورِ مہر حضور ﷺ کی خدمت میں پیش کر دی۔

شادی کی سادگی اور جہیز

نبی کریم ﷺ نے اس رقم سے کچھ خوشبو اور گھر کا ضروری سامان خورا ک اور جہیز کے لیے منگوایا۔ سیدہ کائنات حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو جو جہیز دیا گیا، وہ انتہائی مختصر اور سادہ تھا:

  • ایک کھجور کی چھال سے بھرا ہوا بستر
  • چمڑے کا ایک تکیہ
  • مٹی کے بنے ہوئے کچھ برتن اور گھڑے
  • ایک چکی اور پانی لانے کے لیے ایک مشکیزہ

خطبۂ نکاح اور ولیمہ

مسجدِ نبوی میں انصار اور مہاجرین کی موجودگی میں حضور اکرم ﷺ نے خود خطبۂ نکاح پڑھا اور ان دونوں پاک ہستیوں کے حق میں برکت کی دعا فرمائی۔ نکاح کے بعد حضرت علی نے اپنی استطاعت کے مطابق ایک سادہ سے ولیمے کا اہتمام کیا، جس میں کھجور، پنیر اور جو کی روٹی مہمانوں کو پیش کی گئی۔

ازدواجی زندگی کا آغاز

رخصتی کے وقت حضور اکرم ﷺ نے اپنی بیٹی کو نصیحت فرمائی کہ وہ شوہر کی فرماں برداری کریں، اور حضرت علی کو تاکید کی کہ وہ فاطمہ کا خاص خیال رکھیں۔ اس شادی کے وقت حضرت فاطمہ کی عمر تقریباً 15 سے 18 سال اور حضرت علی کی عمر 21 سے 25 سال کے درمیان تھی۔ ان کے گھر کا ماحول مثالی تھا۔ گھر کے اندر کے تمام کام جیسے چکی پیسنا اور کھانا بنانا حضرت فاطمہ خود کرتی تھیں، جب کہ باہر کے سخت کام حضرت علی سرانجام دیتے تھے۔

یہ شادی ہمیں سکھاتی ہے کہ رشتوں کی بنیاد مال و دولت پر نہیں، بلکہ تقویٰ، سادگی اور باہمی محبت پر ہونی چاہیے۔

اگر آپ اس موضوع پر مزید معلومات چاہتے ہیں، تو بتائیں:

  • کیا آپ ان کی ازدواجی زندگی کے واقعات اور ان کے مثالی تعلق کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں؟
  • کیا آپ ان کی مبارک اولاد (حضرت حسن، حضرت حسین اور دیگر) کے بارے میں پڑھنا چاہتے ہیں؟



 

8/30/26

کسی کے د۔ل میں محبت پیدا کرنے کا عمل


یا ودود اللہ تعالیٰ کا ایک مبارک صفاتی نام ہے، جس کے معنی "بہت زیادہ محبت کرنے والا" اور "پیار کرنے والا" ہیں۔ اس اسمِ مبارک کا ذکر اور وظیفہ دلوں میں محبت، میاں بیوی کے درمیان الفت اور باہمی رنجشیں ختم کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ [1, 2]

یا ودود کے عام اور مستند اعمال

  • میاں بیوی کی محبت کے لیے:
    اول و آخر دو بار درود شریف اور درمیان میں 1,000 یا 2,000 بار "يَا وَدُودُ" چینی یا نمک پر دم کرکے کسی میٹھی چیز یا کھانے میں شامل کرکے کھلانے سے باہم محبت اور اتفاق میں اضافہ ہوتا ہے۔ [1]
  • اولاد کی اصلاح کے لیے:
    اگر بیٹا یا اولاد برائیوں یا نافرمانی میں مبتلا ہو، تو جمعہ کے بعد 1,001 بار اس اسمِ مبارک کو کسی شیرینی (مٹھی چیز) پر پڑھ کر دم کریں اور دو نفل نمازِ حاجت ادا کرکے وہ شیرینی اسے کھلائیں۔ [1]
  • پریشانی یا دشمن سے نجات کی دعا:
    کسی بھی سختی، خوف یا پریشانی کے وقت دو رکعت نماز نفل پڑھ کر یہ دعا کثرت سے مانگی جائے تو ان شاء اللہ پریشانی دور ہو جاتی ہے:

اَللّٰھُمَّ یَا وَدُوْدُ، یَا ذَا الْعَرْشِ الْمَجِیْدُ، یَا مُبْدِئُ یَا مُعِیْدُ، یَا فَعَّالاً لِّمَا یُرِیْدُ

[1]

گھر یا رشتوں کے مسائل کے لیے:
دارالعلوم دیوبند کے دارالافتاء کے مطابق باقاعدگی سے روزانہ کثرت کے ساتھ "يَا لَطِيفُ يَا وَدُودُ" کا ورد کرنا اور اللہ تعالیٰ سے دُعا کرنا مشکلات کے حل اور موافقت کے لیے مفید مانا گیا ہے۔

نوٹ: کسی بھی وظیفے یا عمل کو کرتے وقت باوضو ہونا، اول و آخر درود شریف کا ورد کرنا اور خالص نیت کے ساتھ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھنا ضروری ہے

کسی کے دل میں جائز محبت (جیسے میاں بیوی یا رشتہ ازدواج) پیدا کرنے کے لیے اللہ تعالی کے مبارک ناموں کا ورد کیا جاتا ہے۔

یا لَطِیفُ یا وَدُودُ کا ورد

  • طریقہ: روزانہ باوضو ہو کر اول و آخر ایک ایک مرتبہ درود شریف پڑھیں۔
  • تعداد: درمیان میں کثرت سے یا "یَا لَطِیفُ یَا وَدُودُ" کا ورد کریں (جیسے 3 تسبیح یا روزانہ مقررہ تعداد میں)۔
  • دعا: پڑھائی کے بعد اللہ تعالی سے دل میں محبت اور الفت کے لیے خلوص نیت سے دعا کریں۔ [1]

خاندانی یا گھریلو تعلقات میں بہتری کے لیے دعا

  • دعا: اللّٰہُمَّ أَلِّفْ بَیْنَ قُلُوْبِنَا وَأَصْلِحْ ذاتَ بَیْنِنَا
  • طریقہ: اس دعا کو کثرت کے ساتھ ہر نماز کے بعد مانگیں تاکہ آپس کے رشتوں میں اتحاد اور محبت پیدا ہو۔ [1]

۔

 

8/19/26

بسم اللہ کا عمل محبت کے لئیے اکسیر ہے

 بسم اللہ الرحمان الرحیم

کو سات سو چھیاسی مرتبہ پڑھیں اور کسی بھی کھانے کی چیز پر دم کر کے مطلوب کو کھالانے سے مطلوب کے دل میں محبت پیدا ہو جاتی ہے۔ لیکن یاد رہے صرف جائز مقصد کے لئیے استعمال کریں۔ اگر ناجائز کام کے لئیے استعمال کروگےتو گناہ ملے گا۔ پڑھنے سے پہلے اول أخر ۱۱ مرتبہ درود شریف بھی پڑھیں

8/3/26

خوابوں کی تعبیر جانیے

 

سرہانے کو خواب میں دیکھنے کی تعبیر

حضرت امام کرمانی رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں اگر کسی کو یہ خواب اوے کہ کوئی شخص اس کے گھر سے سرہ نہ لے کر دوسرے گھر میں چلا گیا ہے تو اس کی تعبیر یہ ہے کہ کوئی شخص اس کی عورت کو اغوا کرنا چاہتا ہے 

تعبیر رویا صفحہ  ۴۳

خواب میں باغ دیکھنا

حضرت ابراہیم کرمانی فرماتے ہیں کہ خواب میں باغ سے مراد مالدار اور صاحب جمال ادمی مراد ہوتا ہے اگر کوئی خواب دیکھے کہ موسم بہار یا گرمی کے دنوں میں وہ خوش اور خرم باغ میں پھر رہا تھا اور باغ میں طرح طرح کے میوے لگے ہوئے تھے اور رنگا رنگ کے پھول اور سبزے کھل رہے ہیں اور پانی جاری تھا اس باغ میں بیٹھا ہوا تھا تو اس کی تعبیر یہ ہے کہ خواب والا شہادت کی موت مرے گا کیونکہ یہ تمام صفت جنت کی ہے۔

آسمان کو خواب میں دیکھنا

 اگر خواب دیکھنے والا خواب دیکھے کہ وہ اسمان میں چلا گیا ہے اور واپس نہیں ایا ہے تو اس بات کی دلیل ہے کہ وہ بیمار ہوگا اور اس کی موت واقع ہوگی اگر وہ اسمان سے واپس اگیا ہے تو اس بات کی دلیل ہے کہ بیماری سخت ہوگی اخر کار ٹھیک ہو جائے گا 

 

 

سورج ، آئینہ اور آرا مشین خواب میں دیکھنے کی تعبیر

 

سورج   ،   آئینہ اور آرا مشین خواب میں دیکھنے کی تعبیر

حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں اٹا چھاننے کی چھلنی کی تعبیر ان چار چیزوں سے کی جاتی ہے نمبر ایک نیک مرد دو واحیات عورت تین برا نوکر یا خادم اور چار پشت تھوڑا سا نفع

 سورج کو خواب میں دیکھنے کی تعبیر اٹھ وجہوں سے ہوتی ہے اول خلیفہ دوم بڑا بادشاہ سوم رئیس چہارم بزرگ عامل پنجم عادل بادشاہ ششوم رعیت کا فائدہ ہفت مرد کے لیے عورت اور عورت کے لیے مرد حشتم کوئی روشن اور نیک کام کرے

 نیز اپ کا یہ قول بھی ہے اگر کوئی شخص خواب میں اپنے اپ کو دیکھے کہ وہ سورج کو سجدہ کر رہا تھا تو اس کی تعبیر ہے کہ بادشاہ اس کو کوئی عزت بخشنے والا ہے اور اپنا مقرب بنانے والا ہے اور اس کا کاروبار بڑھ چڑھ کر رہے گا

 ائینہ یعنی شیشہ خواب میں دیکھنے کی تعبیر یہ ہے ائینہ خواب میں دکھائی دینا چھ وجہوں پر ہوتا ہے اول عورت دوم لڑکی سوم جا اور حشمت چار اور دوست پنجم شریک ششم اچھا کاروبار اپ کا یہ قول ہے کہ اگر کوئی غریب ادمی خواب میں ائینہ دیکھے تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ کسی عورت سے شادی کرے گا اور بزرگی پائے گا اور اگر کوئی لڑکی ائینہ دیکھے تو اس کی تعبیر یہ ہے کہ وہ اس کو ایسا اچھا خاون ملے گا جس کے پاس وہ عزت اور ابرو سے زندگی گزارے گی

 خواب میں لکڑی چیرنے کا ارا دیکھنا

ب میں لکڑی چیرنے کا ارا دیکھنا چھ وجوہات کی بنا پر ہوتا ہے اول فرزند دوم بہن یا بھائی سوم شریک اور ہم سر

 

Featured Post

jazz cash& Easypaisa ka shari hukam

  جی۔ JazzCash کے شرعی حکم کو ایک ہی لفظ میں “حلال” یا “حرام” کہنا درست نہیں ؛ اس میں استعمال کی مختلف صورتیں ہیں۔ موجودہ JazzCash کی شرائط ...